نئی دہلی (صباح نیوز) جمعیت علمائے ہند کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے حوالے سے مسلمانوں کا نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق و شواہد پر مبنی ہے۔ بابری مسجد پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے پارٹی کی مجلس عاملہ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد قانون اور عدل و انصاف کی نظرمیں ایک مسجد تھی اور آج بھی شرعی لحاظ سے مسجد ہے اور قیامت تک مسجد ہی رہے گی، چاہے اسے کوئی بھی شکل اور نام دے دیا جائے۔ انہوں نے بابری مسجد کے فیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کسی فرد اور جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی متبادل پر مسجد سے دستبردار ہوجائے۔ مجلس عاملہ نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق وشواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندرکو منہدم کرکے یا کسی مندر کی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی ہے اور خود عدالت عظمیٰ نے بھی اپنے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ اسی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند کا روز اول سے بابری مسجد حق ملکیت مقدمے میں یہ مؤقف رہا ہے کہ ثبوت و شواہد اور قانون کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ دے گی اسے ہم تسلیم کریں گے۔ خود عدالت عظمیٰ نے متعدد بار کہا تھا کہ بابری مسجد کا مقدمہ ملکیت کا ہے۔
