
بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبات کی فہرست حکومت کو پیش کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق مظاہرین نے جمعرات کے روز صدر میشیل عون کے خطاب میں کی گئی پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے حکمراں جماعت کے باہر سے کسی شخصیت کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹی خود مختار عبوری حکومت تشکیل دی جائے، جس کا مقصد لبنان کو اقتصادی بحران سے نکالنا، عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کاانعقاد ہوگا۔ مظاہرین نے لبنان کے اندرونی امور میں غیر ملکی مداخلتوں کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے 76 ویں یوم آزادی کے موقع پر دارالحکومت میں پُر امن ریلی کے انعقاد کی اجازت بھی جائے۔ خبررساں اداروں کے مطابق سیکورٹی فورسز نے جمعہ کی صبح دارالحکومت کے راستوں کو کھول دیا تھا، جو مظاہرین نے جمعرات کے روز صدر میشیل عون کے خطاب کے بعد بند کر دیے تھے۔ علاوہ ازیں لبنان کے یوم آزادی کی مناسبت سے دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں پرامن ریلیوں کا انعقاد کیا گیا جبکہ عکار شہر میں عوام نے حکومت کے خلاف حلبا اور دیگر قصبوں میں بھرپور مظاہرے کیے۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے ٹائر جلا کر کئی سڑکیں بند کر دیں۔ اسی طرح بعبدا میں بھی الشام کا راستہ بند کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم فوج نے انہیں دور کر دیا۔ واضح رہے کہ لبنانی صدر میشیل عون نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر مظاہرین کو بات چیت کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے حل کے لیے یہ واحد راستہ ہے۔
