
ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) چینی وزیر خارجہ نے دنیا میں عدم استحکام کا سب سے بڑا سبب امریکا کو قرار دیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے امریکا سے متعلق یہ بات جاپان میں جی ٹوئنٹی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں کہی۔ جاپانی شہر ناگویا میں جی ٹوئنٹی کے وزرائے خارجہ کا 2 روزہ اجلاس ہفتے کے روز ختم ہو گیا۔ اس اجلاس کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکا کو دنیا بھر میں عدم استحکام پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک قرار دیا۔ انہوں نے یہ کہا کہ امریکی سیاستدانوں کو چین کے خلاف بے بنیاد زہریلی مہم چلانے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے ان کلمات کا اظہار اپنے ڈچ ہم منصب اشٹیف بلوک کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران کیا۔ اس ملاقات میں چینی وزیر خارجہ نے امریکی پالیسیوں پر دوٹوک تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا میں یک رخی نظام کو رواج دینے کے ساتھ ساتھ تجارت میں اقتصادی تحفظ پسندی پر عمل پیرا بھی ہے اور اسی باعث وہ عالمی عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اپنے بعض سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جائز چینی کاروباری عمل کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ وانگ یی نے مزید کہا کہ امریکا نے اپنے داخلی قوانین کا سہارا لے کر ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے چین کی ’’ایک ملک دو نظام‘‘ کی پالیسی کو شدید نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ چین اور امریکا کے درمیان تجارتی اختلافات کو حل کرنے کے مذاکراتی سلسلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں امریکا کی بالادستی تسلیم کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے اور بہتر یہی ہو گا کہ دونوں ممالک آپس میں تعاون کو فروغ دے کر ایک دوسرے کے مفادات کی نگرانی اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔ دنیا کی 2 سب سے بڑی معیشتوں کے حامل ممالک چین اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے عالمی اقتصادی نظام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
