کینبرا (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلوی میڈیا نیٹ ورک نائن کے ایک اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک چینی جاسوس نے کئی اہم راز افشا کردیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منحرف ہو جانے والے شخص نے بیرونی ممالک میں جاسوسی سے متعلق چینی کارروائیوں اور ہانگ کانگ میں سینئر فوجی افسران کی شناخت کے بارے میں حساس معلومات آسٹریلوی ایجنسی کو فراہم کی ہیں۔ واضح رہے کہ چینی جاسوس نے رواں برس مئی میں منحرف ہونے کے بعد خود کو آسٹریلیا کے انسداد جاسوسی کے ادارے کے حوالے کردیا تھا۔ یہ پہلا چینی جاسوس ہے، جس نے اپنی شناخت ظاہر کر کے ملکی راز افشا کیے ہیں۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق منحرف جاسوس کا نام وانگ لی چیانگ عرف ولیم ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ چین کس طرح تائیوان کے سیاسی حکومتی نظام میں مداخلت کر کے اس پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ وانگ لی چیانگ سیاحتی ویزے پر اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ آسٹریلیا گیا ہوا تھا اور وہاں اس نے خود کو آسٹریلیا کی انسداد جاسوسی کی ایجنسی کے حوالے کر دیا تھا۔ ولیم اس وقت سڈنی میں ہے، جہاں اس نے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے دی ہے۔ اسے ڈر ہے کہ واپس چین جانے کے بعد بیجنگ میں حکام اسے تحویل میں لے لیں گے اور مبینہ حکومتی راز افشا کرنے کے الزام میں اسے موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب چین کو بڑی رقم کے عوض خفیہ معلومات دینے پر خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے ) کے ایک سابق جاسوس کو امریکا میں 19 سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
