English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شام میں کاربم دھماکہ 10 افراد جاں بحق

شام: کاربم دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑیاں جل کر تباہ ہوگئی ہیں‘ جائے وقوع سے لاشیں منتقل کی جارہی ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز سرحدی شہر تل ابیض کے صنعتی علاقے میں دھماکاخیز مواد سے بھری ہوئی ایک کار کو دھماکے سے اڑایا گیا۔ بم دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے، جس کے پیش نظر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ ترکی اور اس کے حلیف شامی مزاحمت کاروں کے زیرانتظام ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں 2018ء کے دوران ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک ہوئے۔ یوں گزشتہ سال 2011ء میں شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران سب سے زیادہ ہلاکت خیز رہا۔ شام میں یونیسف کے نمایندے فران ایکویزا کا کہنا ہے کہ 9 برس سے جاری اس ہولناک لڑائی میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بحران کی سطح، شدت اور پیچیدگی تشویشناک ہے۔ گزشتہ سال شام کے بچوں کے لیے ہلاکت خیز ترین سال تھا اور بدقسمتی سے لگتا ہے کہ یہ سال بھی ویسا ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے آغاز سے ہم اب تک 657 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔ اقوام متحدہ نے ستمبر تک بچوں کے بارے میں ہونے والی 1800 سے زائد شدید خلاف ورزیوں کی تصدیق کی ہے۔ ان میں ان کی ہلاکتیں، زخمی ہونے، انہیں کم سن فوجیوں کی حیثیت سے بھرتی کرنے اور ان کے اغوا کے واقعات شامل ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں 50 لاکھ بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور ان میں سے نصف سے زائد اندرونی طور پر بے دخل ہو چکے ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرات سے دوچار بچے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں ہیں۔ ایکویزا نے بتایا ہے کہ 40ہزار بچے الہول کیمپ میں محصور ہیں۔ یہ کیمپ امریکا نواز کرد ملیشیا شامی جمہودی فوج چلا رہی ہے۔ ایکویزا کا کہنا ہے کہ ان میں سے 28ہزار بچے غیر ملکی ہیں۔ ان 28ہزار بچوں میں سے 20ہزار کا تعلق عراق سے اور 8ہزار کا مختلف قومیتوں سے ہے۔ کیمپ میں 80 فیصد بچے 12 سال سے کم اور 15 فیصد 5 سال سے کم عمر کے ہیں۔ چوں کہ زیادہ تر بچے داعش کے عسکریت پسندوں کے ہیں، اس لیے ان کے اصل ممالک انہیں قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے