English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نارویجن حکومت کا قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کا حکم

نارویجن حکومت نے پاکستان کی جانب سے سخت رد عمل کے بعد قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کا حکم دے دیاہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلم ممالک کی جانب سے ناروے میں قرآن کو نذر آتش کرنے کےواقعہ پر شدید ردعمل پر وہاں کی حکومت بھی اقدامات پر مجبور ہو گئی ہے۔ناریجن حکومت نےپولیس کو قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کے احکامات کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات کی روک تھام کو بھی لازمی قرار دے دیا ہے۔

ناروے کے پولیس چیف میڈیا  نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک کی بےحرمتی دوبارہ ہوئی توپولیس اسےروکے گی، قرآن کی بےحرمتی نفرت انگیزتقریرسےمتعلق کرمنل کوڈکی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی ہوگی توپولیس مداخلت کرے گی،ہرکسی کواتنا ہی بولناچاہےکہ قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو، قرآن کی بےحرمتی سےانتقامی کارروائیوں کی راہ ہموارہوسکتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پولیس احکامات کی خلاف ورزی پر کرسچن سینڈ میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر نے کہا کہ ناروے حکومت قرآن پاک کی بے حرمتی کو سختی سے نامنظور کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام کےخلاف اشتعال انگیزکارروائیاں کسی صورت قبول نہیں،وزیراعظم

واضح رہے کہ تین روز قبل ناروے میں اسلام مخالف تنظیم سے تعلق رکھنے والےایک شخص نے ناروے کے کرستیان ساند شہرقرآن پاک کو جلانے کی کوشش کی تھی جس پر ایک مسلمان نوجوان عمرالیاس نےآگے بڑھ کے قرآن پاک کو جلانے کی کوشش کو روکا، جس پر نارویجن پولیس نے مسلم نوجوان کو گرفتار کرلیا تھا۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے نوجوان کی پذیرائی کی جارہی ہے اور اسے ہیرو قرار دیا جارہا ہے جبکہ نارویجن کی حکومت کے رویے کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی گزشتہ روز پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے مذموم واقعے کی شدید مذمت اور احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا ۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ناروے کے سفیر کو باور کرایا گیا کہ واقعے سے دنیا بھر کے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں، ناروے حکومت واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے