
ملتان (صباح نیوز)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سی پیک پر امریکی نائب وزیرخار جہ کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایلس ویلز کے بیان سے منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یہ ایلس ویلز کی رائے ہو سکتی ہے، پاکستان نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک میں سی پیک کے منصوبے جاری ہیں اور جاری رہیں گے، یہ معاشی ترقی کے لیے ضروری اور گیم چینجر ہے، ہم نے اس کے فیز ٹو کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان کا مجموعی ڈیڈ سرسنگ(قرض) 74 ارب ڈالر ہیں جبکہ اس میں سی پیک کا اثر 40 لاکھ 90 ہزار ڈالر ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ کہہ دینا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے ڈیڈ سروسنگ (قرض)میں بے پناہ اضافہ ہوگا یہ درست نہیں ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم خصوصی اکنامک زونز میںامریکا سمیت دیگر ممالک سے بھی چاہیں گے کہ وہ سرمایہ کاری کریں ۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ناروے کے واقعے کی پرزور مذمت کرتا ہوں، اس واقعے سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ دفترِ خارجہ نے کل ناروے کے سفیر کو طلب کیا، ان سے قرآن کی بے حرمتی کے واقعے پر بات کی اور اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اوسلو میں اپنے سفیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناروے کے دفتر خارجہ کو باور کرائیں کہ اس واقعے سے ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور فوری طور پر قرآن کی بے حرمتی کرنے والے شخص کو گرفتار کرکے اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ قرآن کی بے حرمتی روکنے کے لیے قدم اٹھایا اس کو فورا رہا کیا جائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو کو112روز گزر چکے ہیں، کشمیر کے مسئلے سیاسی جماعتوں سے کوئی اختلاف رائے نہیں، امریکی کانگریس میں مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھایا گیا ہے، ایوان نمائندگان کی رکن راشدہ طالب نے امریکی کانگریس میں قرارداد پیش کی ہے۔ یورپی یونین میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا گیا ہے۔ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی اموات کے اعداد و شمار بھی جاری نہیں کیے جاتے۔ اس حوالے سے امریکی کانگریس کے رکن بریڈشرمین نے مقبوضہ کشمیر پر بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے، بریڈ شرمین کا کہنا ہے کہ یورپی وفد کو مقبوضہ کشمیر لے جایا جا سکتا ہے تو امریکیوں کو کیوں اجازت نہیں؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر سیل کے اگلے اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان سے کرنے کی گزارش کی جائے گی۔
