کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر خود کش حملے کے نتیجے میں غیر ملکی سمیت کئی پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق واقعہ دارالحکومت کابل میں پیش آیا جہاں پولیس ہیڈ کوارٹر کے قریب اقوام متحدہ کی گاڑی کے سامنے حملہ آور نے خود کو بارودی مواد سے اْڑالیا۔ حملے میں پولیس کی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا جب کہ ہیڈ کوارٹر کی ایک دیوار بھی منہدم ہوگئی۔ افغان فوج نے علاقے کا گھیراؤ کرکے سرچ آپریشن کیا جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ زخمیوں میں غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں۔حکومتی ترجمان نصرت رحیمی نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکا خودکش حملہ نہیں بلکہ باروی سرنگ کے پھٹنے کے باعث ہوا تھا۔ دھماکے میں ایک غیر ملکی ہلاک اور 5 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تاہم غیر ملکی میڈیا اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد حکومتی دعووؤں کے برعکس کہیں زیادہ ہے۔حملے کی ذمے داری کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔علاوہ ازیں افغان عہدیدار کا کہنا ہے کہ وسطی صوبے دیوکنڈی میں طالبان کی جانب سے ایک چوکی پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 8 افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبائی گورنر انور رحمتی کے مطابق واقعے میں 4 فوجی زخمی بھی ہوئے۔ صوبائی گورنر کے نائب محمد علی عروز غنی نے بتایا کہ ان منظم حملوں میں لگ بھگ 200طالبان مزاحمت کار ملوث تھے۔ جوابی کارروائی میں طالبان کے 25ارکان کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام نے بتایا ہے کہ ایک چیک پوسٹ پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے اور اگر متاثرہ ضلعے کی طرف سیکورٹی دستوں کی اضافی نفری روانہ نہ کی گئی، تو پورے ضلعے کے ہاتھ سے نکلنے کا خطرہ ہے۔
