English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نفس کی سازش اپنا محاسبہ نہیں کرنے دیتی۔۔۔

تحریر : ڈاکٹر نگہت نسیم

آج تک یہی سنا تھا کہ جو بویاجاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے۔۔ مجھے پیار ہے ان کم علموں سے جو ایسی باتوں کا ادراک رکھتے ہیں اور کوشش کر کے اچھی اچھی باتیں بویا کرتے ہیں ۔ اپنے ارد گرد صرف پیار ہی اگایا کرتے ہیں ۔ نفسا نفسی کے دور میں بھی فرصت نکال کر ایک دوسرے کو پیار اور عزت سے جواب دیا کرتے ہیں ۔

مجھے محبت ہے اپنی مریضوں سے جوہوش حواس کھوتے وقت بھی اپنے محسنوں کونہیں بھولتے اور جب خدا پاک ان سے سب کچھ واپس لینے لگتا ہے تو وہ صرف  وہی نام اپنے پاس رکھنے کی دعا مانگتے ہیں ۔۔ کبھی کبھی تو انہیں بھی ہمارے حوالے کر دیتے ہیں جو ان کے لیئے ان کے دکھ سکھ کا شریک  رہا ہوتا ہے  ۔۔ وہ کتا بھی ہو سکتا ہے اور بلی بھی ۔۔ کبھی سانپ توکبھی چوہا اور کبھی کوئی رشتہ بھی  ۔۔۔۔۔۔۔

میں ہر روز پڑھے لکھے لوگ جو خود کو مہذب کہلونے پر مصر رہتے ہیں انہیں اپنی غزلوں ،  نظموں اور کہانیوں میں علاوہ شکووں کے  کچھ بوتے نہیں دیکھتی ۔۔ وہ کبھی یہ نہیں سوچ پاتے کہ جن لوگوں کی کمی کا رونا گایا جا رہا ہوتا ہے انہیں آپ ہی نے  مختلف بہانے اور تاویلوں سے چھوڑا ہوتا ہے ۔۔ “ سیلف پٹی “ یعنی خود پر ترس کھانا ، احساس کمتری کی علامت ہے جو انہیں کبھی خوش نہیں ہونے دیتی ۔۔۔

کاش  کہ ایک دن یہ پڑھے لکھے لوگ اپنے رویوں پر غور کریں ۔۔ لوگوں سے شکووں اور شکایتوں کی عرضی  دراز کرنے سے پہلے اپنی منہ زور خود غرضیوں اور سرد رویوں پر غور کریں ۔۔ اور نفسا نفسی کی اس دوڑ میں اپنا نمبر دیکھیں ۔۔ کہیں  وہ اپنے ہی نفس کی سازش کا شکار تو نہیں ہو گئے یعنی اس دوڑ “ میں نمبر ون “ تو نہیں ہیں ۔۔

عزیز دوستو!
خوشیاں بانٹنے کے لیئے سب سے پہلے اپنی ذات سے خوش ہونا پڑتا ہے ۔ اللہ پاک نے جتنا دیا ہے اسی پر قناعت اور شکر ادا کرنا پڑتا ہے ۔خدا پاک سے احسانمندی اور اس کی شکرگزاری ہی نفس کی سازش کو ناکام بنا سکتی ہے اور زندگی کو گہرے سکون سے متعارف کروا سکتی ہے ۔

طالب دعا
ڈاکٹر نگہت نسیم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے