آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی
قیاس آرائیوں کے باعث اسٹاک مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آگئی ٗ سرمایہ کاروں نے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل ٹوٹ گیا، سرمایہ کاری کو 70 ارب روپے کا نقصان ہوا، سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد قیاس آرائیوں کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے حصص فروخت کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آگئی اور منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 417.23 پوائنٹس کی کمی سے 38 ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے 37795.05 پوائنٹس کی سطح پر آگیا جبکہ 61.90 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو 70 ارب 9 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، تاہم کاروباری حجم پیر کی نسبت 102.33 فیصد زائد رہا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور پیر کو تیزی جاری رہنے کے بعد منگل کو بھی سرمایہ کار منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری میں سرگرم رہے جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 38568 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا تاہم بعدازاں سپریم کورٹ کا آرمی چیف کے حوالے سے فیصلہ آنے کے بعد غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہو گئے اور انہوں نے دھڑا دھڑ حصص فروخت کرنے شروع کر دیے جس کے باعث مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آگئی اور انڈیکس 38 ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے 37535 پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا۔

