اقوام متحدہ (اے پی پی) پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی سے انٹرا افغان بات چیت کی راہ ہموار ہوگی جس سے اٖفغانستان کے دیرینہ تنازع کے پرامن حل میں مدد ملے گی ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے جنگ زدہ ملک افغانستان کی صورتحال سے متعلق جنرل اسمبلی کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں مدد کے لیے امریکی صدر کی درخواست کا مثبت جواب دیا اور جب اس عمل میں تعطل آیا تو پاکستان نے طالبان پولیٹیکل کمیشن کا اجلاس منعقد کیا اور امریکی اور آسٹریلوی قیدیوں کی رہائی میں سہولت کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی ۔منیر اکرم نے کہا کہ ان کوششوں سے دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور توقع ہے کہ اس سے پرامن اور براہ راست مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا جس کے نتیجہ میں ہمیں امید ہے کہ افغان پر امن معاہدہ طے ہو جائے گا۔افغانستان کی نازک سیکورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات ہیں اور ہم امن و استحکام کے اہم نصب العین کے لیے اس کی حمایت کرتے ہیں ۔
