English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی میں 60 ہزار غیر قانونی بلڈنگز کسی افسر کو سزا کیوں نہیں ملی، تحریک انصاف

شہر بھر میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر جاری ہے کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ سندھ حکومت غریب عوام کے سر سے چھت چھینے کی کوشش کررہی ہے
چشتی نگر میں سندھ حکومت نے پولیس گردی کروائی، عوام کے ساتھ ایسا رویہ نہیں چلے گا، سندھ اسمبلی قائد حزب اختلاف کی عالمگیر خان کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما و قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ 60 ہزار بلڈنگز شہر میں غیر قانونی ہیں اور مزید تعمیر کی جارہی ہیں، ایس بی سی اے کے کسی افسر کو سزا کیوں نہ ملی جبکہ چشتی نگر میں سندھ حکومت کی جانب سے عوام کے سر سے چھت چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب ایک شخص 12 سال ایک جگہ رہتا ہے تو وہ جگہ اس کا قانونی حق ہو جاتی ہے، سندھ حکومت وہاں کے لوگوں کو متبادل بھی فراہم کرے، پولیس کے دستے لاکر حکومت سندھ نے جو تماشہ کیا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، سعید غنی اور مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ ہم ایک گھر بھی نہیں گرائیں گے، ناصر حسین شاہ سے گزارش کی تھی کہ علاقہ مکینوں سے بات کی جائے۔ یہ باتیں انہوں نے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، اس موقع پر ان کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان اور رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج اور دیگر موجود تھے، فردوس شمیم نقوی نے مزید کہاکہ 60 ہزار بلڈنگز شہر میں غیر قانونی ہیں شہر بھر میں غیر قانونی عمارتیں بن رہی ہیں، ایس بی سی اے کے کسی افسر کو سزا کیوں نہ ملی؟ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کا کہنا تھا کہ چشتی نگر کے لوگوں نے بورڈ آف ریونیو کو چالان دینے، سندھ حکومت لوگوں کو لالی پاپ دے رہی ہے گزشتہ روز پولیس گردی کی گئی، عوام کے ساتھ ایسا رویہ نہیں چلنے دیں گے۔ سندھ حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے پر کمیشن بنائیں اور چشتی نگر کے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے