English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی اقدامات کیخلاف چین اور روس کی نئی صف بندی

القمر

بیجنگ ؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ حکومت مغربی مداخلت کے توڑ کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نکولائی پیٹروشیف سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران چینی صدر نے کہا کہ امریکا سمیت مغربی ممالک کی چینی اور روسی اندرونی معاملات میں مداخلت بڑھتی جا رہی ہے جو دونوں ممالک کی خود مختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ صدر شی کا کہنا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے متفق ہیں کہ امریکی طرزِ عمل غلطی ہے، لہٰذا چین اور روس کو مشترکہ مفادات اور سلامتی کے لیے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا ہوگا۔ دوسری جانب خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہوزیکین کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیجنگ حکومت ہانگ کانگ میں احتجاج سے متعلق واشنگٹن حکومت کے موقف کی وجہ سے امریکی سفارتی پاسپورٹس کے حامل افراد کو چین میں داخل ہونے سے روک سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ممکنہ اقدام امریکی ایوان نمایندگان میں چینی زیر انتظام ہانگ کانگ میں مظاہرین کی حمایت کے لیے قانون سازی منظور ہونے کا جواب ہو سکتا ہے۔ اُدھر چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران الزام عائد کیا کہ انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہانگ کانگ میں انتہا پسندوں کی پرتشدد سرگرمیوں کی حمایت کررہی ہے، لہٰذا ہیومن رائٹس واچ پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ چین نے گزشتہ ہفتے ہی واضح کیا تھا کہ اگر امریکا نے ہانگ کانگ میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا تو بھرپور اور سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین اب بھی امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کے مسئلے پر تجارتی مذاکرات کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان نیٹو اجلاس کے لیے روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں دیا۔ واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں جمہوریت کی حمایت میں 6 ماہ سے جاری مظاہروں نے نیم خود مختاری رکھنے ہانگ کانگ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 2 روز قبل بھی سیکڑوں افراد نے امریکی قونصل خانے کی جانب مارچ کیا تھا، جس کا مقصد چینی حکومت کے مخالف مظاہروں کے لیے امریکا کی حمایت پر شکریہ ادا کرنا تھا۔ مارچ میں شریک افراد امریکی پرچم اٹھائے ہوئے تھے جبکہ بعض شرکا کے لباس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں عبارتیں تحریر تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے