کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے اخبارات کے اشتہارات کی مد میں بقایا جات کی ادائیگی نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر صوبائی حکومت کو 4.6 ملین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 20 یوم کی مہلت دے دی۔ فاضل عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ اگر ادائیگی نہیں کی گئی تو پھر چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری اطلاعات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بدھ کو جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اخبارات کے اشتہارات کی مد میں بقایا جات کی ادائیگی نہ کرنے کے خلاف کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر محکمہ اطلاعات کے افسر شعیب احمد پیش ہوئے۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ دسمبر 2018ء کے 4.6 ملین ہے اور جون 2019ء تک 4.4 ملین ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آپ کی درخواست پر دسمبر 2018ء تک کے واجبات ادا ہو جائیں تو پھر اس کو دیکھنا ہوگا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں تو ایجنسیاں واجبات نہیں دے رہی ہیں اور 100 میں سے 15 فیصد وہ اپنے لے کر 85 فیصد تو ہم کو دیں۔ جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے اس میں ہم نہیں جارہے ہیں۔ بعدازاں عدالت نے صوبائی حکومت کو 20 یوم میں واجبات کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی۔

