وقفہ سوالات کے دوران سوال دریافت کرنے والے بہت سے ارکان غائب تھے
بحریہ ٹائون کو 6 انچ قطر کی لائن دی گئی ہر ایک کنکشن کیلئے پیسے وصول کئے‘سلیم بلوچ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کے مسلسل اجلاسوں سے ارکان اب سخت اکتاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور ایوان کی کارروائی سے ان کی دلچسپی بھی روزبروزکم ہوتی جارہی ہے۔بدھ کو بھی اجلاس مقررہ وقت کے بجائے حسب معمول ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ کارروائی کے آغاز میں ارکان کی تعداد خاصی کم تھی۔وقفہ سوالات کے دوران جو محکمہ بلدیات سے متعلق تھا نہ صرف وزیر بلدیات بلکہ سوال دریافت کرنے والے بہت سے ارکان بھی غائب تھے۔اس صورتحال میں وقفہ سوالات میں5 جواب مؤخر ہوگئے، آخری سوال پر رکن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما سید عبدالرشید سے جواب کی ابتدا ہوئی اورپارلیمانی سیکرٹری سلیم بلوچ نے وزیر بلدیات کی طرف سے جواب دیا۔وزیر بلدیات سے پوچھا گیا تھا کہ کیا واٹر بورڈ نے بحریہ ٹائون کراچی کو پانی کاکنکشن فراہم کیا ہے ؟ جس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری بلدیات نے بتایا کہ بحریہ ٹائون کو 6 انچ قطر کی لائن دی گئی ہر ایک کنکشن کے لیے پیسے وصول کیے گئے۔ان کنکشنز سے 2 کروڑ 40 لاکھ گیلن پانی ہر ماہ دیا جا رہا ہے ،اوسطاًہر ماہ بل کی مد میں 75 لاکھ 12 ہزار روپے ماہانہ وصولی کی جارہی ہے۔وقفہ سوالات کے لیے ایک گھنٹہ مختص ہوتا ہے لیکن ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث وقفہ سوالات محض 5 منٹ میں ختم ہوگیا۔

