English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پیٹرولیم مصنوعات میں ٹیکس کی تفصیلات عوام پر بجلی بن کر گری ہیں‘اسمال ٹریڈرز

القمر

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹیریز کے صدر سجاد سرور نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات میں ٹیکس کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہیں۔ یہ تفصیلات عوام پر ایک بم بن گری ہیں حکومت کو
چاہیے کہ اپنے پرانے وعدے پورے کرے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بیان کیے گئے حقائق کے مطابق ڈیزل پر45 روپے اور پیٹرول پر35روپے فی لٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل پر20روپے اور لائٹ ڈیزل پر14.98 روپے فی لٹر ٹیکس کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، صرف ایک سال میں پیٹرولیم ٹیکسوں کی مد میں 206 ارب 28 کروڑ روپے وصول کیے گئے مالی سال 2010-11ء میں اس مد میں72.32 ارب روپے، 2012-13ء میں 60.36ارب روپے، 2013-14ء میں 103.53ارب روپے، 2014-15ء میں 131.36 ارب روپے، 2015-16ء میں 149.35 ارب روپے،2016-17ء میں 166.69 ارب روپے، 2017-18 ء میں 178.87 ارب روپے، اور2018-19ء میں 206.28 ارب روپے وصول کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے جو مالی سال2010-11ء سے لے کر مالی سال 2018-19ء تک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حکومتیں اپنے ادوار میں پیٹرولیم ٹیکس وصول کرتی رہی ہیں تاہم یہ مسلسل بڑھ رہا ہے،2018-19ء میں سب سے زیادہ ٹیکس حاصل ہوا۔ان اعداد و شمار سے یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ اس شعبے سے حکومت کو متعدبہ ٹیکس حاصل ہوتے ہیں اور تھوڑا یا بہت جو بھی ٹیکس بنتا ہے ہر خریدار کو نقد جمع کرانا پڑتا ہے۔ موجودہ حکومت کے معاشی دماغ جب وہ اپوزیشن میں تھے یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ اگر حکومت ٹیکس ختم کر دے تو پیٹرول40، پچاس روپے کے لگ بھگ فروخت ہو سکتا ہے لیکن اپوزیشن میں سنہری نظر آنے والا یہ فارمولا حکومت میں آتے ہی بدل گیا اور حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس مد میں ریکارڈ ٹیکس جمع کیے جا رہے ہیں،ڈیزل پر سب سے زیادہ45روپے لٹر ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ پیٹرول پر ٹیکس کی مد میں 35روپے حاصل کیے جا رہے ہیں،حکومت اگر یہ ٹیکس یا ان ٹیکسوں کا کچھ حصہ کم کر دے تو مہنگائی کے مارے عوام کو تھوڑا بہت ریلیف مل سکتا ہے۔
اسمال ٹریڈرز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے