آئین کی حکمرانی کیلئے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے
ایک کروڑ نوکریوں کی نوید دی 25لاکھ بیروزگار کردیئے
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)جے یو آئی ف کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی گردن سے سریا نکال دیا ہے ،ان کی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ہے ، آئین کی حکمرانی کے لیے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے۔پشاور میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے سے خطاب میں ا نہوں نے کہاکہ مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ، پورا ملک اور عوام اضطراب کا شکار ہیں ،خاص طور پر نوجوان مستقبل کے بارے میں اضطراب میں ہیں، ایک کروڑ نوکریوں کی نوید دی گئی لیکن 25 لاکھ نوجوانوں کو بیروزگار کیا گیا۔ حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ہے ، ایسی ناجائز حکمرانی کو نہ تسلیم کرتے ہیں نہ اسے چلنے دیں گے۔ یہ لوگ دوسروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم ان کا احتساب کرینگے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے مگر ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے ہم نے ان حکمرانوں کی گردن سے سریا نکال دیاہے ، یہ حکمران پاکستان اور کشمیر کے غدار ہیں، ہم ان غداروں کو پاکستان پر حکومت نہیں کرنے دینگے ، انہوں نے کہاکہ یہ پشاور کے اور صوبے کی نمائندے نہیں ہیں یہ اس ملک و قوم کے بھی نمائندے نہیں ہیں ،یہ قبضہ گروپ ہیں ہم ان کا قبضہ ختم کرینگے ،حکومت نے گزشتہ تمام حکومتوں سے زیادہ قرضے ایک سال کے دوران لیے ، عدالت نے قانون سازی کا کہا لیکن یہ پارلیمنٹ قانون سازی کی اہلیت نہیں رکھتی، بی آر ٹی کے ایک کلو میٹر کی لاگت اڑھائی ارب روپے ہے ، ان لوگوں نے پورے پاکستان کو بی آر ٹی بنا دیا ہے ، بی آرٹی سے پشاورکھنڈر ہوگیا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ پشاور سے جیتے ، اسے دھاندلی کہتے ہیں، پشاور کھنڈر بن گیا تو شہری پی ٹی آئی کو کیوں ووٹ دیتے ؟ تم نے ایک ارب درخت لگائے ہیں، دکھائیں ایک ارب درخت کہاں ہیں؟ تم نے 80 کروڑ درختوں کا پیسا کہاں خرچ کیا، اس کا حساب لیا جائے گا۔ اس حکومت نے پہلے سال ہی ملکی تاریخ میں ریکارڈ قرضے لیے۔ ہماری تحریک کا اختتام حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہوگا۔

