English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لبنان ،پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت سازی موخر

بیروت: حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز شہریوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تشدد کی وجہ سے حکومت سازی پھر کھٹائی میں پڑگئی۔ الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز لبنانی صدارتی محل نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم کو حکومت سازی کی دعوت دینے سے متعلق مشاورت جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم سعد الحریری کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔ پیر کے روز لبنانی پارلیمان نے یہ طے کرنا تھا کہ ملک کا اگلا وزیراعظم کون ہو گا اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سعد الحریری اپنے عہدے پر واپس آ جائیں گے۔ خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی، جب اتوار اور پیر کی درمیانی شب دارالحکومت بیروت میں مسلسل دوسری رات حکومت مخالف مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں سیکورٹی دستوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیوں، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پانی کی تیز دھار کا بے دریغ استعمال کیا۔ ان کارروائیوں میں 100 مظاہرین کے زخمی ہونے کی طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے، جن میں سے 20 کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ مظاہرین نے بھی سیکورٹی اہل کاروں پر بوتلیں اور پٹاخے پھینکے۔ ان جھڑپوں کے بعد پیر کے روز بیروت کی سڑکوں پر خاموشی اور سناٹا رہا۔ یاد رہے کہ لبنان میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ 17 اکتوبر سے جاری ہے، اور مظاہرین ملکی اشرافیہ کے مسلسل اقتدار میں رہنے، مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کے بے جا ذاتی استعمال کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم سعد الحریری مستعفی ہوچکے ہیں اور ابھی تک نئی حکومت تشکیل نہیں پا سکی ہے۔ صدر نے انہیں دوبارہ حکومت بنانے کی دعوت دینے کا ارادہ کیا ہے، تاہم اس پر مشاورت ہونی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے