English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اردوان کی امریکی فوج کیلئے ایئربیس بند کرنے کی دھمکی

ترکی: انجرلیک ائربیس پر امریکی اور اتحادی افواج کے جنگی طیارے موجود ہیں‘ صدر رجب طیب اردوان مقامی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دے رہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے انقرہ کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا، تو ترکی میں 2 اہم تزویراتی فوجی اڈوں کو امریکا کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ یہ دونوں فوجی اڈے انجرلیک اور کوریچک میں واقع ہیں۔ امریکا ان دونوں اڈوں کو اپنے تزویراتی فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے بھی کہا تھا کہ اگر واشنگٹن نے روسی فضائی دفاعی میزائلوں کی خریداری کی وجہ سے ترکی کے خلاف کوئی پابندیاں عائد کیں، تو امریکی افواج کی طرف سے ان دونوں ترک فوجی اڈوں کا استعمال بند کر دیا جائے گا۔ صدر اردوان نے یہ دھمکی انقرہ کے خلاف امریکی پابندیوں کے امکان کے تناظر میں دی۔ ترکی اور امریکا کے مابین انقرہ کے روس کے ساتھ طے شدہ اس دفاعی معاہدے کی وجہ سے کافی عرصے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جس کے تحت ترکی ماسکو سے ایس 400 طرز کے فضائی دفاعی میزائل نظام خریدے گا۔ اس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی کو کئی بار پابندیوں کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں، تاکہ انقرہ کو کسی بھی طرح ماسکو سے ایس 400 طرز کے مزید میزائل سسٹم حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ اس کے برعکس ترک حکومت کا موقف یہ ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے روس کے ساتھ طے کردہ معاہدے سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔ اس پس منظر میں صدر اردوان نے اتوار کی شام مقامی ٹیلی وژن چینلوں کو انٹریو میں کہا کہ اگر واشنگٹن نے انقرہ کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا، تو ترکی اپنی سرزمین پر 2 اہم تزویراتی فوجی اڈوں کو امریکا کے لیے بند بھی کر سکتا ہے۔ ترک صدر نے کا کہنا تھا کہ اگر ضروری ہوا، تو ہم انجرلیک اور کوریچِک میں امریکا کے زیر استعمال دونوں تزویراتی فوجی اڈے بند کر دیں گے۔ واشنگٹن کے لیے ترکی میں ان دونوں فوجی اڈوں کی اہمیت یہ ہے کہ امریکا ان اڈوں کو اپنے تزویراتی فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ترکی میں انجرلیک کے فوجی اڈے کی عسکری اہمیت یہ ہے کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں اپنی فضائی کارروائیوں کے لیے اسی ملٹری بیس کو استعمال کرتی ہے، اور شام اور عراق میں داعش کے خلاف امریکی فضائی کارروائیوں میں بھی اس ترک فوجی اڈے نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اسی ترک اڈے پر امریکا نے اپنے 50 کے قریب بی 61 گریویٹی ایٹم بم بھی ذخیرہ کر رکھے ہیں۔ جہاں تک ترکی ہی میں کوریچِک کے فوجی اڈے کا تعلق ہے، تو وہ امریکا کے علاوہ نیٹو کے فوجی استعمال میں بھی ہے اور مغربی دفاعی تنظیم نیٹو نے مشرقی ترکی کی اس ملٹری بیس پر اپنا ایک ریڈار اسٹیشن بھی قائم کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی حکومت روس کے ایس 400 دفاعی نظام کی خطے میں موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ترکی نے امریکا کے ساتھ جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیاروں کی مشترکہ پیداوار کا بھی معاہدہ کررکھا ہے اور اس کشیدگی کے باعث واشنگٹن نے انقرہ کو اس پروگرام سے الگ کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے