نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ہندو انتہاپسندی کا پرچار کرنے والے زعفران پاپ میوزک کی مقبولیت روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ گلوکار سر عام شہریوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو ہندوؤں کی حمایت نہ کرے اس کی زبان یا ہاتھ کاٹ دو۔ لکشمی دوبے زعفران پوپ میوزیکل بینڈ کی مشہور گلوکارہ ہے۔ اس کے اکثر گیت فوجی طرز کے اور پُرتشدد تصاویر کے حامل ہوتے ہیں۔ لکشمی دوبے کی ایک وڈیو میں ہندوؤں کے دستے کو جنگ لڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ 29 سالہ لکشمی کا کہنا ہے کہ یہ ہندو اپنے مذہب کے مخالفوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس کا کہنا تھاکہ ہندوستان ہمیشہ سے رام کا تھا، ہے اور رہے گا۔ ہم رام کی پوجا کرتے ہیں اور ان کے لیے ہی مریں گے۔ اگر کوئی ہمارے بھگوان رام کے خلاف کچھ کہے گا تو ہم اس کی زبان کاٹ ڈالیں گے۔ یو ٹیوب پر 5کروڑسے زائد افراد دوبے کے گیت دیکھ چکے ہیں۔ رقص کرنے پر مجبور کرنے والے ان گیتوں میں مذہب کے نام پر جنگ کرنے کے مطالبے بھی شامل ہیں۔ یہ وہ امتزاج ہے جولاکھوں ہندوؤں کو دلوں کو لبھا رہا ہے۔ زعفران ہندوؤں کے لیے ایک مقدس رنگ ہے اور زیادہ سے زیادہ ہندو قوم پرست اس رنگ کو ایک نشانی کے طور پر پہنتے ہیں۔ یہی بھارت کی قوم پرست حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا رنگ بھی ہے۔ آج کل اس جماعت کو پاپ گلوکاروں کی حمایت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ لکشمی دوبے بڑے فخر سے کہتی ہے کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں ہے، وہ اس جماعت کی کئی تقریبات میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکی ہے۔ دوبے کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کی باگ ڈور نریندر مودی جیسے محب وطن کے ہاتھ میں ہے۔ ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ جلد ہی ہمارا ملک دنیا بھر میں اسی مقام پر پہنچ جائے گا، جس پر اسے ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ بھارت تیزی سے ہندو ریاست کی جانب بڑھ رہا ہے اور وہاں مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
