پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) صحافیوں کی فرانسیسی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ رواں برس دنیا بھر میں 49 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ ویب سائٹ ’رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز ‘کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں صحافت کو خطرناک پیشہ قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2019ء میں 49 صحافیوں کے قتل کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ 16برس میں کم ترین شرح ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 20 برس سے سالانہ 80 صحافی اپنی جان کھورہے ہیں۔ ان میں اکثریت یمن، شام، افغانستان میں اپنی صحافتی ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے قتل کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019ء میں 389 صحافی جیل میں قید ہیں، ان میں سے نصف صحافی صرف 3ممالک میں قید ہیں۔ چین، مصر اور سعودی عرب میں حکومتوں کی جانب سے 57 صحافیوں کو یرغمال بنایا گیا، جب کہ یمن، شام، عراق اور یوکران کی جیلوں میں اور مقامیعسکریت پسندوں کے ہاتھوں ایک بڑی تعداد قید ہے۔ ایک طرف تو صحافیوں کی ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی تو دوسری جانب ان کو قید و حراست میں رکھنے کی شرح میں 2018ء کے مقابلے میں 12فیصد اضافہ بھی ہوا ہے۔ ادھر فرانسیسی واچ ڈاگ کے سربربراہ کرسٹوف ڈلوری کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے قتل کے 10واقعات صرف میکسیکو میں پیش آئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں پر امن سمجھے جانے والے ممالک میں صحافیوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے، جو عالمی برادری کے لیے لمحہ فکرہے۔ لاطینی امریکا میں 14 صحافیوں کے قتل کے بعد وہاں کے حالات اور مشرق وسطیٰ میں جاری خانہ جنگی میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مزید 8صحافی برازیل، چلی، ہنڈوراس، کولمبیا اور ہیٹی میں ہلاک ہوئے۔ نیویارک میں صحافیوں کی تنظیم کی خاتون سربراہ نتالی ساؤتھ وک کا کہنا تھا کہ وسطی اور جنوبی امریکا کے خطے میں بسنے والے ممالک میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات دیگر ممالک تک منتقل ہورہے ہیں۔
