English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی عدالت عظمیٰ کا کچھ ریاستوں میں ہندئوں کو اقلیت قرار دینے سے انکار

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی عدالت عظمیٰ نے جموں و کشمیر اور شمال مشرق کی 8ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دینے سے انکار کردیا۔ ان ریاستوں میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے مقابلے ہندوؤں کی آبادی کم ہے۔ عدالت سے رجوع کرنے والے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر ہندو بے شک اکثریت میں ہیں، لیکن 8 ریاستوں میں وہ اقلیت میں ہیں۔ اس لیے انہیں اقلیتی حیثیت دی جانی چاہیے۔ اس پر بھارتی عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مذہب کو الگ الگ ریاست کے بجائے پورے ملک کے تناظر میں دیکھاجانا چاہیے اور اگر مسلمان کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں اقلیت میں ہیں تو اس میں پریشانی کیا ہے ؟ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے نے عدالت عظمی میں ایک عرضی دائر کر کے 1993ء کے اس حکومتی حکم نامے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی، جس کی رو سے بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں، بودھوں اور پارسیوں کواقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اپادھیائے نے اسی کے ساتھ ہر ریاست میں آبادی کی بنیاد پر اقلیتوں کی شناخت کے لیے مرکزی حکومت کو نئی گائیڈ لائنس جاری کر نے کی بھی درخواست کی تھی۔ بھارت میں مذکورہ 5 مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ جین مت والوں کو 2014ء میں اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اس عرضی پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ زبانیں ریاستی سطح پر محدود ہیں۔ مذاہب کی کوئی ریاستی سرحدیں نہیں ہوتی۔ ہمیں اسے پورے بھارت کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ لکش دیپ میں مسلمان ہندو قانون پر عمل کرتے ہیں۔ اس لیے اگر مسلمان کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں اقلیت میں ہیں، تو اس میں آپ کو کیا پریشانی ہے؟ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل ہوئی تھی، لیکن مذہب کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے ریاستی آبادی کی بنیاد پر کسی فرقہ کو اقلیتی حیثیت نہیں دی جاسکتی ہے۔ بی جے پی کے رہنما نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ہندو جو بھارت کی قومی مردم شماری کے مطابق اکثریت میں ہیں، وہ جموں و کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں اقلیت میں ہے۔ اس کے باوجود وہ اقلیتوں کے لیے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مراعا ت سے محروم ہیں۔ واضح رہے کہلکش دیپ میں ہندوؤں کی تعداد 2.5 فیصد، میزورم میں 2.75 فیصد، ناگالینڈ میں 8.75 فیصد، میگھالیا میں 11 فیصد، جموں و کشمیر میں 28 فیصد، اروناچل پردیش میں 29 فیصد، منی پور میں31 فیصد اور پنجاب میں 38.40 فیصد ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے