برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی کمیشن کی تازہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ترکی سے غیر قانونی طور پر یورپی ممالک میں داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں رواں برس 2018ء کے مقابلے میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ جرمن اخبار دی ویلٹ کا خفیہ یورپی دستاویز کے حوالے سے کہنا تھا کہ زیادہ تر غیر ملکی ترکی سے یونان کے راستے یورپی یونین میں داخل ہوئے اور ان میں سب سے زیادہ تعداد افغان تارکین وطن کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سے وسط دسمبر تک ترکی سے 70ہزار سے زائد مہاجرین یورپی یونین کے مختلف ممالک میں پہنچے۔ اس دوران 68ہزار مہاجرین بحیرہ ایجیئن عبور کرکے یونان پہنچے، جہاں وہ ایسے مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں جو پہلے سے ہی گنجایش سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مہاجرین کی ایک تھوڑی سی تعداد بلغاریا، اٹلی اور قبرص بھی پہنچی۔یورپ پہنچنے والے افغان مہاجرین کی تعداد 30 فیصد ہے، جب کہ شام سے آنے والے پناہ گزینوں کا تناسب صرف 14 فیصد ہے۔ اس کے بعد پاکستان، عراق اور ترکی کے شہری ہیں جو بالترتیب 9.5 فیصد، 8 فیصد اور 5فیصد ہے۔ نئے مہاجرین کی یونان آمد کی وجہ سے مختلف مہاجر کیمپوں پر دباؤ بہت بڑھ گیا ہے اور وہاں کھانے، کپڑے اور دوائیوں کی کمی ہوگئی ہے۔ حکومت یونان پناہ گزینوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو اب ملک کے دوسرے حصوں کی طرف منتقل کررہی ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں ڈھائی کروڑ مہاجرین اپنے مسائل کے حل کے لیے عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جنیوا میں اقوام متحدہ اور سوئٹزرلینڈ کی طرف سے مشترکہ طور پر 2روزہ گلوبل ریفیوجی فورم کا انعقاد کیا گیا،جو آج اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مختلف بحرانوں کی وجہ سے بے گھر انسانوں کی تعداد مزید بڑھتی جا رہی ہے اور تارکین وطن کے خلاف جارحانہ سوچ کے خاتمے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
