English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گیس مہنگی کرنا حکومت کا عوام و تاجر دشمن فیصلہ ہے،ہارون میمن

القمر

سکھر (نمائندہ جسارت) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے چیئرمین حاجی محمد ہارون میمن نے کہا ہے کہ گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے گیس 214 فیصد سے 245 فیصد تک مہنگی کرنا حکومت کا عوام و تاجر دشمن فیصلہ ہے، حکومت مہنگائی کم کرنے کے بجائے مہنگائی بڑھانے کے ظالمانہ اقدام کرکے عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین رہی ہے، تباہ حال کاروبار اور زبوں حال معیشت کو مزید برباد کیا جارہا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے من مانے غیر منصفانہ اور عوام دشمن فیصلے کو پوری قوم اور تاجر برادری مسترد کرتی ہے۔ حکومت یہ فیصلہ فوری واپس لے، بصورت دیگر ملک بھر کے تاجر اور عوام سراپا احتجاج بن کر شٹر ڈائون ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں تاجروں اور شہریوں کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حاجی محمد صابر، خواجہ جلیل احمد، بدر رفیق قریشی، صابر کپتان، حاجی انور وارثی، محمد پناہ سومرو، مولانا عثمان فیضی، لالا عابد کھوکھر، فیاض خان، برکت سولنگی، سید محمود علی، محمد شاہد، نفیس احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی محمد ہارون میمن کا کہنا تھا کہ گیس اس قدر مہنگی کرنا عوام کو مشتعل کرنے کی سازش اور کاروباری سرگرمیوں کو بالکل ختم کرنے کا ظالمانہ اقدام ہے۔ گیس کے نرخ اتنے زیادہ بڑھانے سے جہاں گھریلو صارفین کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، وہاں کمرشل صارفین، صنعت کار و تاجر اور چھوٹے کاروبار کرنے والے، تندور و ہوٹل مالکان سمیت ہر شعبے کے لیے نئی پریشانی کھڑی ہوجائے گی اور مہنگائی ایک نہ رکنے والا نیا طوفان سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر آنے والے دن کے ساتھ تاجروں اور عوام کے لیے نئی مشکلات پیدا کرکے لوگوں میں بے چینی اور اضطرابی کیفیت کو بڑھا رہی ہے، جس سے عوام اور تاجروں میں شدید مایوسی اور پریشانی پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو پہلے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا بھرکس نکال رکھا ہے، اب گیس کے نرخ اتنے بڑھائے جارہے ہیں کہ بڑھتی مہنگائی کو روکنا ممکن ہی نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کا گھریلو بجٹ اس اضافے سے شدید متاثر ہوگا اور غریبوں کے لیے ایک نئی معاشی مشکل پیدا ہوجائے گی جبکہ چھوٹی بڑی صنعتوں اور گیس کے ذریعے کاروبار کرنے والے دکاندار چھوٹے بڑے کاروباری طبقے کو کاروبار جاری رکھنا دشوار ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولٹری اتھارٹی (اوگرا) کے اس فیصلے کو حکومت فوری طور پر ختم کرکے گیس کے موجودہ نرخ برقرار رکھے جائیں، گیس کی قیمتوں میں کسی صورت اضافہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے گیس کی قیمتیں بڑھانے کے فیصلے پر عوام اور تاجروں میں گہری تشویش ہے اور وہ اسے عوام اور تاجروں کیخلاف ایک نئی سازش اور مہم سمجھتے ہیں تاکہ حکومت کو بڑھتی مہنگائی کی مخالفت کے دوران مزید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے اور حکومت کے لیے ایک نئی مشکل پیدا ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں کے معاملے کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کیا جائے کیونکہ پارلیمنٹ عوامی فورم ہے، جہاں عوام کے نمائندے موجود ہوتے ہیں، کسی بھی ادارے کو جبری طور پر قیمتیں بڑھانے کا حق دینا عوام کے بنیادی حقوق کیخلاف ہے اور ان کے ساتھ ظلم و نا انصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فیصلے عوامی نمائندوں کے ذریعے ہی پارلیمنٹ میں طے کیے جائیں تاکہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم فوری طور پر گیس کی بڑھائی گئی، قیمتوں کے فیصلے کو واپس لینے کا اعلان کرے، بصورت دیگر صارفین اور تاجر برادری ملک بھر میں شٹر ڈائون ہڑتال کرنے پر مجبور ہوجائیگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے