مقبوضہ کشمیر میں سرینگر کے شہر خاص میں واقع مرکزی جامع مسجد میں میں آج 5 ماہ کے بعد نماز جمعہ ادا کی گئی، نماز جمعہ میں ایک ہزار نمازی موجود تھے، جنہوں نے پر امن طریقے سے نماز جمعہ ادا کی۔
وادی کشمیر میں جمعہ کی نماز کے دوران سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے کیلئے حساس مقامات پر مرکزی نیم فوجی دستے (سی پی ایم ایف)اور پولیس کے جوان تعینات کئے گئے ۔ تاریخی جامع مسجد میں 20ہفتے کے بعد لوگوں نے جمعہ کی نماز ادا کی ۔
دکانیں اور تجارتی ادارے کھلے رہے اور ٹریفک معمول پر رہی۔ وادی میں پانچ اگست کو آرٹیکل 370ختم کئے جانے کے بعد سے پچھلے 138دنوں سے ریاست میں بی ایس این ایل سمیت سب کمپنیوں کی انٹرنیٹ سروسزملتوی ہیں۔ تین سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ،ا ن کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی، سابق رکن اسمبلی اور سابق وزیر سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے کئی لیڈروں کی حراست میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔
پانچ اگست کے بعد پہلی بار بدھ کو حریت کانفرنس کے صدر میر واعظ مولوی عمر فاروق کے گڑھ میں واقع اس مسجد میں نماز پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ہر ہفتے جمعہ کو نمازیوں سے خطاب کرنے والے میرواعظ پچھلے 138دنوں سے نظر بند ہیں۔
سول لائنس،شہر اور پرانے شہر سمیت وادی کشمیر میں حساس علاقوں میں مرکزی ریزرو فورس اور پولیس اہلکار اضافی جوان تعینات ہیں۔ القمرآن لائن کے مطابق موسم گرما کے دارالحکومت سری نگر سمیت وادی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی ادارے کھلے ہیں اور سبھی راستوں پر ٹریفک معمول پر ہے۔وادی میں شدید ٹھنڈ کے باوجود صبح ساڑھے نوبجے دکانیں کھلیں۔صفر سے کم درجہ حرارت کے درمیان مرکزی نیم فوجی دستے (سی آر پی ایف)کے جواب امن و قانون کیلئے حساس مقامات پر تعینات ہیں۔

