اسلام آباد (اے پی پی/مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ معاملہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی ذات کا ہے ہی نہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک خاص حکمت عملی کے ساتھ فوج کو ٹارگٹ کیا گیا‘ پہلے لبیک دھرنا کیس میں فوج اور آئی ایس آئی کو ملوث کیا گیا‘ پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو متنازع بنایا گیا اور اب فوج کے مقبول سابق سربراہ کو بے عزت کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ واقعات کا تسلسل عدالتی اور قانونی معاملہ نہیں لگ رہا‘ اس سے بڑھ کر ہے‘ اگرفوج کے ادارے کو تقسیم یا کمزور کر دیا گیا تو پھرملک انارکی سے نہیں بچ سکتا۔ ان کا
کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور موجودہ فوجی سیٹ اپ نے جمہوری اداروں کا ساتھ دیا ہے‘ فوجی سیٹ اپ کی جمہوری اداروں کی حمایت کو نادانی یا کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ دریں اثنا قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی ) ہیڈکوارٹرز میں مسیحی ملازمین کی جانب سے کرسمس کیک کاٹنے کی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اداروں کو اپنے آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کے لیے سہولت کاری فراہم کرتی رہے گی‘ پاکستان کسی قسم کی افراتفری، قیاس آرائی، مبالغہ آرائی یا عالمی سطح پر کسی منفی تاثر کا متحمل نہیں ہوسکتا‘ پاکستان کی سرحدی کشیدگی اور اندرونی بحران کی صورتحال ایک ہی ڈیزائن کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے محاذ پر پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے لہو سے امن کے دیے جلاتے ہوئے ملک دشمن قوتوں کو شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلے میں استعمال کی جانے والی زبان اقدار کے منافی ہے‘ قانون اور مذہب لاش کی بے حرمتی کی قطعی اجازت نہیں دیتے‘ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ غصہ دلانے اورافواج پاکستان کے حوصلے پست کرنے کی ایک دانستہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق مسیحی برادری کی خوشیوں کو بانٹنا پاکستان کے ساتھ لازوال خدمت کا اعتراف ہے۔
