مشرف کیس پر میرے اثرانداز ہونے سے متعلق بات تضحیک آمیز ہے،جج کا شیر جیسا دل اور لوہے جیسے اعصاب ہونے چاہئیں
سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، مجھ پرعائد الزام بے بنیاد ہے، ہمیں اپنی حدود کا علم ہے ، سچ کا ہمیشہ بول بالا ہوگا‘جسٹس آصف سعید کھوسہ
چیف جسٹس کے خطاب پر کمرہ عدالت تالیوں سے گونج اٹھا‘جسٹس قاضی فائزعیسی اوراٹارنی جنرل انورمنصورخان شریک نہ ہوسکے
سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی، آئین کے تحفظ اور آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے‘نامزد چیف جسٹس گلزار احمد کا خطاب
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ انہیں اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اعزازمیں فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے ججز، وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل اورسپریم کورٹ بارکے صدرنے شرکت کی۔ جسٹس قاضی فائزعیسی چھٹی پرہونے اور اٹارنی جنرل انور منصور خان بیرون ملک ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے۔چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز خصوصی عدالت کے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کے بعد میرے اورعدلیہ کے خلاف تضحیک آمیزمہم چلائی گئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی الزام لگایا کہ میں نے صحافیوں سے ملاقات میں مشرف کیخلاف فیصلے کی حمایت کی، مشرف کیس پر میرے اثرانداز ہونے سے متعلق بات تضحیک آمیز ہے، مجھے اور عدلیہ کو بد نام کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے، جج کا شیر جیسا دل اور لوہے جیسے اعصاب ہونے چاہئیں، آج میرا ضمیر سو فیصد مطمئن ہے، کوشش کی کہ خود کوایک آئیڈیل کردار کا حامل جج بناؤں، قانونی تقاضوں سمیت بغیر خوف فیصلے کئے، اگر کسی فیصلے میں مجھ سے ناانصافی ہوئی تو معذرت خواہ ہوں، بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، مجھ پرعائد الزام بے بنیاد اور غلط ہے، ہمیں اپنی حدود کا علم ہے ، سچ کا ہمیشہ بول بالا ہوگا۔ چیف جسٹس نے خطاب میں نظم پڑھی کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے، وہ تم کو خوف بھی لائیں گے، تم اپنی کرنی کرگزرو جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ چیف جسٹس کے خطاب پر کمرہ عدالت نمبر ایک تالیوں سے گونج اٹھا۔نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان ایک زندہ جاوید دستاویز ہے اور عوام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی، آئین کے تحفظ اور آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔قبل ازیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ بنیادی حقوق اور فوجداری نظام کی روایت کے خلاف ہے، اس میں عداوت اورانتقام نظرآتا ہے، سزا پرعملدرآمد کا جوطریقہ کارفیصلے میں بتایا گیا وہ غیرقانونی اورغیرانسانی ہے، ایسے کنڈکٹ والا شخص اعلی عدلیہ کا جج نہیں رہ سکتا، بھاری دل کے ساتھ کہتا ہوں چیف جسٹس نے بھی خصوصی عدالت کے مختصر فیصلے کی حمایت کی ہے۔وائس چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ نے خطاب میں کہا کہ پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کا غماز ہے، پاکستان بار کونسل جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزا دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے، آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی اور جمہوری حکومت کو گرانے کی جرات نہ ہوگی، جسٹس وقار اور انکے ساتھی رکن جج کو ہمیشہ عزت و تکریم سے یاد رکھا جائے گا، مشرف فیصلے پر حکومتی حلقوں کا ردعمل توہین آمیز ہے۔صدر سپریم کورٹ بار قلب حسن شاہ نے سپریم کورٹ سے بھٹو ریفرنس سماعت کیلئے مقررکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پرعوامی اعتماد کی بحالی کیلئے لازم ہے کہ بھٹوریفرنس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، ریاست کے تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، عدلیہ کو اکثر ایگزیکٹو اور اداروں کے دبائو کا سامنا رہتا ہے، سپریم کورٹ بار مشرف کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو سراہتی ہے۔

