لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ اگرفوج کو کمزور کیا گیا تو ہم بچ نہیں پائیں گے، اس وقت ہم سب کو ایک دوسرے کی مان کرچلنا پڑے گا، اتھارٹی ریت کی طرح ہوتی ہے، ایک بار سرکنا شروع ہوجائے تو پھر رکتی نہیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں روایتی طور ایک ہی پاور سینٹر فوج تھا۔عدلیہ اور فوج کے درمیان مفاہمت تھی کہ اگر سیاسی عدم استحکام بڑھ جاتا ہے تو کس طرح حل نکالا جائے۔ ہمیشہ سے تین پلیئرتھے، جب 58 ٹوبی تھی تو صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف رول پلے کرتے تھے۔ جب 58 ٹو بی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ختم کردی گئی تو پھر تین پلیئرکاٹرائیکا بن گیا جن میں وزیراعظم ، چیف جسٹس اور آرمی چیف شامل ہیں۔افتخار چودھری نے بحالی کے بعد 100ججز کو نکال کر نئی عدلیہ بنا دی تھی اگر غداری یا آئین کے آرٹیکل کی بات کی جائے تومشرف نے چار جج نکالے جبکہ افتخار چودھری نے سو جج نکال دیے۔مثلاًاب اگر فوج کہے کہ اگر ججز والا معاملہ غیرقانونی ہے تو پھر افتخار چودھری اوران کے ساتھی ججز کا بھی ٹرائل کرنا چاہیے۔یہی سزا ان کوبھی دینی چاہیے۔ افتخار چودھری نے کارکے کیس کا فیصلہ دیا پاکستان کو ایک ارب ڈالر ، ریکوڈک میں 6ارب ڈالر کا جرمانہ ہوگیا، اگر ان چھ ججز پر ٹرائل شروع کردیں تو پھر تو سسٹم آگے نہیں چل سکے گا۔یہ معاملات کی ایک سیریز ہوئی ہے۔تحریک لبیک کے کیس میں ڈی جی آئی ایس آئی ، آرمی چیف کو الزام دیا گیا، پھر آرمی چیف کی توسیع کا مسئلہ آیا اور اب پرویز مشرف کا معاملہ آگیا ہے
فواد چودھری
