قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) عرب پارلیمان کے صدر مشعل بن فہم سلامی نے کہا ہے کہ تنظیم سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سعودی عدالت کا مقتول صحافی جمال خاشق جی کے مقدمے کا فیصلہ منصفانہ ہے، لہٰذا اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی طاقتیں سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں سے باز رہیں اور اس کے داخلی امور میں مداخلت کرنا بند کریں۔ دوسری جانب سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر عواد بن صالح عواد نے کہا ہے کہ خاشق جی قتل کیس کا شفاف ٹرائل اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں عدلیہ آزاد ہے جو کسی دبائو کے بغیر انصاف کے ساتھ کیسوں کے فیصلے کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاشق جی قتل کیس کی جس غیرمعمولی طور پر عدالتی تحقیقات کی گئی، اس سے عدلیہ کی غیر جانبداری، آزادی اور قابلیت واضح ہوجاتی ہے۔ ادھر مقتول جمال خاشق جی کے بیٹے صلاح جمال نے بھی عدالتی فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے منصفانہ قرار دیا۔ اس سے قبل امریکی حکومت بھی سعودی عدالت کے فیصلے کو اہم قرار دے چکی ہے۔ واضح رہے کہ پیر کے روز سعودی عرب کی فوجداری عدالت نے جمال خاشق جی کے قتل کے جرم میں 5افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ مقدمے میں 3 افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی۔
