شادی لارج (نمائندہ جسارت) ملک میں انصاف کا دوہرا نظام برداشت نہیں کیا جائے گا، بابر حسین سلہری۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم یوتھ اسمبلی فار ہیومن رائٹس (انٹرنیشنل) کے مرکزی صدر بابر سلہری پاکستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ممبر تنظیم (IHRO) کے زیر اہتمام منعقد 19ویں سالانہ نیشنل ہیومن رائٹس کانفر نس سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انصاف کا دوہرا نظام قائم ہے۔ امیر کے لیے الگ نظام قائم ہے اور غریب کے لیے الگ نظام قائم ہے۔ قانون میں لچک اور ہمدردی صرف امیر کو ہی حاصل ہے اور امیر کے لیے قانون کے بہت سے رخ بدل دیے جاتے ہیں اور غریب اسپتالوں، پولیس تھانوں اور جیلوں میں دم توڑ دیتا ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ بابر سلہری نے کہا یہ نظام ایک گول دائرہ ہے اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اور ملک کے تمام ادارے اس گول دائرے کا چکر کاٹ رہے ہیں۔ کہنے کو پاکستان ایک آزاد ملک ہے، مگر غریب کی آزادی ابھی باقی ہے اور غریب کو آزادی حاصل کرنا ہوگی۔ اس گندے نظام سے اس شیطان کے نظام سے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر پر خاموش کیوں ہے؟ خاموشی توڑ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت عالمی قوانین کے مطابق ایک دہشت گرد ملک ہے۔ حکومت اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ دنیا 7th جنریشن میں داخل ہوگئی ہے اور تھرپارکر اور بدین میں پانی میسر نہیں ہے۔ تھرپارکر میں ہلاکتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ حکومت اپنا کرادار ادا کرے اور غریب کی آزادی تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
