English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سارے ثبوت عدالت کو دیے،تمام بڑے چوروں کو ضمانتیں دی جارہی ہیں،شہر یار آفریدی

القمر

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)وزیرمملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ رانا ثنااللہ کیس کا فیصلہ نہیں آیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں رہا کیا۔ عدالتوں کے فیصلے ایک وزیر کیسے بتاسکتا ہے تاہم کیس لٹکانے کے لیے تاخیری حربے استعمال کیے گئے،میں کسی کام کے سلسلے میں ملک سے باہر تھا لیکن تاثر ایسا دیا گیا کہ میں ڈر گیا اور میڈیا سے بھاگ رہا ہوں۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہریارآفریدی کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کے معاملے پر ایسا تاثر دیا گیا سب کچھ ختم ہوگیا لیکن ایسا نہیں ہے، رانا ثنااللہ کو بری نہیں کیا گیا بلکہ انہیں رہا کیا گیا ہے اور ان کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں آیا ،وہ اب بھی ملزم
ہیں۔کیس میں کبھی نہیں کہا کہ ویڈیو موجود ہے بلکہ فوٹیجز کی بات کی ہے۔ آج کل ضمانتوں کا موسم ہے اور تمام بڑے چوروں کو ضمانتیں دی جارہی ہے، انہیں بھی لاہور ہائی کورٹ نے رہا کیا۔وزیرمملکت نے کہا کہ میں کسی کام کے سلسلے میں ملک سے باہر تھا لیکن تاثر ایسا دیا گیا کہ میں ڈر گیا اور میڈیا سے بھاگ رہا ہوں، میری اور وزیراعظم کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں ہے اور ہم نے رانا ثنااللہ کو گرفتار کیا اور نہ ان کے کیس میں کسی قسم کی مداخلت کی جب کہ عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں اور عدالتوں کے فیصلے ایک وزیر کیسے بتاسکتا ہے تاہم کیس لٹکانے کے لیے تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔ایک سوال کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ رانا ثنااللہ کیس کو میڈیا ٹرائل نہ بنایا جائے، کیس سے جڑے تمام ثبوت عدالت کو فراہم کرچکا ہوں لیکن فیصلہ کرنا میرا کام نہیں لیکن پتہ نہیں ہم کیوں میڈیا میں آکر جج بن جاتے ہیں جب کہ ثبوتوں کے بنیاد پر فیصلہ عدالتوں نے دینا ہے اور تفصیلی فیصلہ آنے پر ہم تمام آپشن استعمال کرتے ہوئے کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کی ضمانت کے عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے اور ہم مافیاز کے خلاف کھڑے ہیں۔دوسری جانب چیف پراسیکوٹراے این ایف راجا انعام امین منہاس کا کہنا ہے کہ منشیات برآمدگی کیس کے تقاضے کے مطابق وڈیو سمیت تمام ثبوت و شواہد موجود ہیں۔ رانا ثنااللہ کے خلاف کیس کا فیصلہ یکطرفہ ہوگا۔راولپنڈی اے این ایف ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف پراسیکوٹر اے این ایف راجا انعام امین منہاس کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ منشیات کیس میں میڈیا پر ایک طرف کے بیانات سامنے آرہے ہیں، یہ تاثر دیا گیا کہ پراسیکوشن اس میں تاخیر لارہی ہے۔ ہماری تحقیقاتی تاریخ سب کے سامنے ہے ہم نے تاخیر کے لیے کوئی درخواست نہیں دی۔ اے این ایف کی جانب سے تمام کام مکمل کیا گیا، کیس کے تقاضے کے مطابق وڈیو سمیت تمام ثبوت و شواہد موجود ہیں۔ رانا ثنااللہ کے خلاف کیس کا فیصلہ یکطرفہ ہوگا۔پراسیکوٹر اے این ایف نے بتایا کہ منشیات برآمدگی کیس کی ایف آئی آر یکم جولائی 2019 کو درج ہوئی، ہم نے 23 جولائی کو چالان جمع کرادیا جس کے تمام ثبوت عدالت میں پڑے ہوئے ہیں، چالان میں 15 کلوگرام برآمدگی ہیروئن، 15 گواہ، 3 گواہوں کے بیانات، کیمیکل ایگزیمینر کی رپورٹ اورموقع کی فوٹیج کی سی ڈی بھی ساتھ لگی ہوئی ہے۔ برآمدگی کے گواہ اور رپورٹ یہ قانون شہادت ہے جو پراسیکوشن نے پیش کرنا ہوتی ہے۔پراسیکوٹر اے این ایف نے کہا کہ سی این ایس ایکٹ کے مطابق 9 اے، بی اور سی کا کیس ثابت کرنے کی تمام قانونی کاروائی مکمل کی اس کے بعد دفاع سے پوچھا جاتا ہے کہ برآمدگی ہوئی ہے یا نہیں کس طرح ہوئی سب کچھ بتایا جاتا ہے۔ ضمانت کیلیے شواہدکوعدالت میں ڈسکس نہیں کیاجاتا۔
شہر یار آفریدی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے