واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کرسمس کے موقع پر شمالی کوریا کے کسی بھی ’’تحفے‘‘ سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے دھمکی دی تھی کہ امریکا اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے ورنہ وہ خود انتخاب کر لے کہ اسے کرسمس کے موقع پر کیا تحفہ چاہیے، جس کے بعد امریکی ملٹری کمانڈرز نے پیانگ یانگ کی جانب سے کرسمس کے موقع پر طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل تجربے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پتا لگائیں گے کہ شمالی کوریا کا امریکا کے لیے کرسمس پر کیا تحفہ ہوگا اور ہم اس سے بہت کامیابی سے نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شاید وہ بہت اچھا تحفہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ میزائل تجربے کے بجائے مجھے گلدستہ بھیجیں۔ شمالی کوریا نے رواں ماہ کے آغاز پر اپنے دھمکی آمیز بیان میں واشنگٹن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق ہونے والے مذاکرات کو طول دینا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا نے آخری مرتبہ نومبر 2017ء میں بین البراعظمی میزائل ’ہاسونگ 15‘ کا تجربہ کیا تھا۔ جسے اب تک کا سب سے بڑا میزائل تجربہ کہا جاتا ہے ۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ ان کے میزائل امریکا میں کسی بھی شہر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
