English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لیبیا ،فوج اور باغی ملیشیا میں گھمسان کی لڑائی،اردوان تیونس پہنچ گئے

طرابلس: لیبیا کی باغی ملیشیا کی جانب سے دارالحکومت پر قبضے کے لیے فضائی بم باری کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے‘ ترک صدر کا تیونس پہنچنے پر استقبال کیا جا رہا ہے‘ اِردوان اپنے ہم منصب قیس سعید سے ملاقات کررہے ہیں

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں دارالحکومت پر قبضے کے لیے خلیفہ حفتر کی زیر قیادت باغی ملیشیا کے قومی فوج پر حملے جاری ہیں۔ گزشتہ روز باغی ملیشیا اور لیبی فوج کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق طرابلس کے جنوبی علاقے صلاح الدین میں فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے، اس حوالے سے باغی ملیشیا کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے دارالحکومت کے ہوائی اڈے کے راستے وفاق کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اس دوران فضائی حملوں میں ترکی کی ایک بکتر بند گاڑی بھی تباہ ہوئی۔ اس سے قبل پیر کے روز بھی جنوبی طرابلس میں وفاق کی فوج اور باغی ملیشیا کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے لڑائی کی اطلاعات آئی تھیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق خلیفہ حفتر کی باغی ملیشیا نے سرت شہر پر فیصلہ کن حملے کے لیے فوجی کمک جمع کرنی شروع کردی ہے۔ باغی ملیشیا کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے دھمکی دی ہے کہ لیبیا کی جنگ میں ترکی کی مداخلت کے بعد مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اِردوان اچانک غیر علانیہ دورے پر تیونس پہنچ گئے جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب قیس سعید کے ساتھ لیبیا میں جنگ بندی ک قیام اور ممکنہ اقدامات و تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ عرب ٹی وی کے مطابق ترک صدر کے ساتھ ان کے وزیر خارجہ، انٹیلی جنس سربراہ اور سیکورٹی مشیر بھی تیونس پہنچے ہیں۔ سربراہ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ تیونس لیبیا میں استحکام کے لیے مفید اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیبیا میں جنگ بندی جلد از جلد ہونی چاہیے۔ ادھر امریکا کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا کی خود مختاری اور اس کی اراضی کے تحفظ کا پابند رہے گا۔ امریکا نے لیبیا میں بحران میں شامل فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت کا سلسلہ روک دیں اور تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ لیبیا میں امریکی سفارت خانے کی ٹویٹ میں کہا گیا کہ وقت آ گیا ہے کہ لیبیا کی قیادت غیر ملکی مداخلت کا دروازہ کھولنے کے بجائے خود مختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے