بن قاسم ٹائون کے پیپری گوٹھ میں قومی شاہراہ پر احتجاجی مارچ میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے
حملہ آوروں کو گرفتار کرنے اور بن قاسم پولیس کی لاقانونیت سے بچانے اور اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
کراچی ( رپورٹ / ہارون رشید) بن قاسم ٹائون کے علاقے پپری کانھ گوٹھ پر مسلح حملے میں ملوث با اثر افراد گرفتار نہیں ہوسکے ،گوٹھ خالی کرانے کے لیے مسلح افراد کا پولیس اہلکاروں کے ساتھ محاصرہ جاری ، سیکڑوں مکینوں کا عورتوں اور معصوم بچوں سمیت حملہ آوروں اور بن قاسم پولیس کے خلاف گوٹھ سے قومی شاہراہ تک پیدل احتجاجی مارچ دھرنا بن قاسم تھانے کی پولیس لاقانونیت اور مجرموں کے ساتھ مل کر انسانیت کی ساری حدود پار کرگئی مسلح افراد نے گاؤں کے تمام راستے سیل کر کے یرغمال بنا رکھا ہے گاؤں کے مکینوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں قانونی ادارے، منتخب نمائندے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو مدد کی پر زور اپیل کرتے ہیں علاقہ مکینوں کی میڈیا سے گفتگو تفصیلات کے مطابق ایک ہفتہ قبل قومی شاہراہ کے قریب پپری کانھ گوٹھ پر مسلح افراد کا حملہ عورتوں بچوں اور مردوں کو تشدد میں ملوث با اثر افراد کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود بن قاسم پولیس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے اس سلسلے میں متاثرہ گوٹھ کی گھگھر اور پسگردائی کے علاقہ معززین نے یونین کونسل چنڈ پارو کے چیئرمین ستار خلیفو کی قیادت میں گزشتہ روز مذکورہ گوٹھ پہنچے جس کے بعد سیکڑوں مکینوں جن میں عورتیں اور بچوں نے معززین تانھو کانھ ،صوفن کانھ ،عطا اللہ گبول، گل زمان گبول و دیگر کی قیادت میں متاثرہ گوٹھ سے قومی شاہراہ دو کلومیٹر پیدل احتجاجی مارچ کر کے دھرنا دیا اس موقع پر عورتوں نے پولیس اور مسلح افراد کے ظلم کے خلاف ماتم کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مدد کی اپیل کی جب کے احتجاج میں شریک لوگ فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے احتجاج کے شرکا قومی شاہراہ پہنچے جہاں دھرنا دیکر بیٹھ گئے ۔

