
دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں مزاحمت کاروں کے زیرانتظام علاقوں پر بشارالاسد کی فوج اور اس کے حلیف روس کی کارروائی کے باعث تیزی سے نقل مکانی جاری ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسدی اور روسی بم باری سے خوف زدہ 2لاکھ 20ہزار سے زائد شہری گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہوچکے ہیں، جن میں ایک تہائی بچے ہیں۔ دوسری جانب تُرک ہلال احمر کے چیئرمین کریم کرنک کا کہنا ہے کہ وہ شام میں مہاجرین کو رہایش فراہم کرنے کے لیے نئی خیمہ بستیاں لگا رہے ہیں۔ کریم کرنک نے ان خیالات کا اظہار استنبول میں 2019ء کے جائزہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ کریم کرنک نے بتایا کہ 2 لاکھ پناہ گزین ترکی کے سرحدی علاقے کے قریب پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان اور دیگر نے علاقے میں جنگ بندی کے لیے اپنی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں آباد 4 لاکھ پناہ گزین کسی دیگر علاقے منتقل نہیں کیے جاسکتے، بلکہ یہ یہاں پر ہے آباد رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سرحد کے قریب ایک لاکھ 75 ہزار میں سے 85 فیصد کو افراد کو ان کے رشتہ داروں کے قریب گھروں، گوداموں، خیموں، مساجد اور اسکولوں میں بسایا گیا ہے۔ ہم انہیں خوراک فراہم کر نے کے علاوہ ان کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ علاقے میں آٹے اور دواؤں کی فراہمی جاری ہے۔ سردیوں کی صورتحال بہت سنگین ہے۔ ادھر شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق مشرقی شام میں بدھ کے روز نامعلوم جنگی طیاروں کی بم باری کے باعث بوکمال شہر میں کم از کم 5 ایرانی حمایت یافتہ جنگجو ہلاک ہو گئے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بم باری کس نے کی۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم طیاروں نے صوبہ دیر الزور کے مشرقی شہر بوکمال کے وسط میں ایران نواز ملیشیا کے سینتالیسویں بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔
