English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی حکومت نے 40 ہزار پاکستانیوں سے روزگار چھین لیا

سیکورٹی خدشات اور مبینہ قوانین کی خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کردیا
کئی اہم شعبوں سے لاکھوں پاکستانی ملازمین کی چھٹی ہو چکی ہے‘انگریزی اخبار انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے اپنی دھمکیوں پر عمل بھی کر دکھایا؟ 40 ہزار پاکستانیوں سے روزگار چھین لیا گیا، سعودی حکومت نے سیکورٹی خدشات اور مبینہ قوانین کی خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر گزشتہ 4 ماہ کے دوران ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ سعودی عرب میں گزشتہ دو سال سے سعودائزیشن کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس کے منفی اثرات پاکستانی ملازمین پر بھی پڑنے لگے ہیں۔کئی اہم شعبوں سے لاکھوں پاکستانی ملازمین کی چھْٹی ہو چکی ہے۔ جبکہ انگریزی اخبار انڈی پینڈنٹ کے مطابق سعودی حکومت نے صرف گزشتہ 4 ماہ کے دوران ہزاروں پاکستانیوں کو سعودی عرب سے نکال باہر کیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے سیکورٹی خدشات اور مبینہ طور پر کی گئی قوانین کی خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر 4 ماہ کے دوران 40 ہزار پاکستانیوں کو مملکت سے ڈی پورٹ کر دیا۔سعودی حکومت کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے کریک ڈاون کے باعث سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ملائیشیا سمٹ میں شرکت کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں مبینہ طور پر کچھ تناو پیدا ہوا تھا جس کے بعد سعودی حکومت نے مبینہ طور پر پاکستانی حکومت کو دھمکیاں بھی دیں۔ترک صدر رجب طیب اردگان کا دعویٰ ہے کہ سعودی حکومت نے پاکستان کی معاشی مجبوریاں کا فائدہ اٹھایا اور اسے دھمکیاں دے کر ملائیشیا سمٹ میں شرکت سے روکا۔ ترک صدر کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے ملائیشیا سمٹ میں شرکت کی تو سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں سے روزگار چھین کر ان کی جگہ بنگلہ دیشیوں کو بھرتی کر لیا جائے گا۔ سعودی عرب کی اسی دھمکی کے باعث وزیراعظم عمران خان ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے