لکھنؤ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش میں کشیدہ حالات کے دوران ایک مسلمان لڑکی کی شادی انجام پائی اور محلے کے ہندوئوں نے حفاظت کے لیے پہرہ دیا تاکہ ہمسائے مسلمان بے خوف ہو کر شادی کی رسومات ادا کر سکیں۔ شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں مظاہرین کی ہلاکت کے باعث کانپور شہر میں بھی حالات کشیدہ ہیں۔ کانپور کے رہائشی واجد فضل نے بتایا کہ وہ اپنی بھتیجی زینت کی شادی پہلے سے طے کر چکے تھے لیکن اب حالات خراب ہوگئے اور ہم شادی کی تاریخ موخر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن ہندو ہمسایوں نے آخر ہمیں تسلی دی اور کہاکہ ہم حفاظت کریں گے آپ شادی کی تقریبات شروع کریں۔ چالیس ہندو نوجوانوں نے میرے گھر اور گلی میں دن رات پہرہ دیا میں اس حسن سلوک کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- سمندری طوفان ’ارنب‘: ہواؤں کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان، کئی ریاستوں میں الرٹ
- ’ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو 2026‘ کا آج افتتاح کریں گے وزیر اعظم نریندر مودی
- ایم ایل سی انتخاب: بہار اور یوپی سمیت 4 ریاستوں کی 28 نشستوں پر گنتی شروع، سیکورٹی سخت
- یوٹیوب کا صارفین کی پسندیدہ ویڈیوز کے لیے نیا فیچر
- سمندر میں پلاسٹک تھیلیاں اور کچرا سمندری حیات کی بقا کے لیے خطرہ
