لکھنؤ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش میں کشیدہ حالات کے دوران ایک مسلمان لڑکی کی شادی انجام پائی اور محلے کے ہندوئوں نے حفاظت کے لیے پہرہ دیا تاکہ ہمسائے مسلمان بے خوف ہو کر شادی کی رسومات ادا کر سکیں۔ شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں مظاہرین کی ہلاکت کے باعث کانپور شہر میں بھی حالات کشیدہ ہیں۔ کانپور کے رہائشی واجد فضل نے بتایا کہ وہ اپنی بھتیجی زینت کی شادی پہلے سے طے کر چکے تھے لیکن اب حالات خراب ہوگئے اور ہم شادی کی تاریخ موخر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن ہندو ہمسایوں نے آخر ہمیں تسلی دی اور کہاکہ ہم حفاظت کریں گے آپ شادی کی تقریبات شروع کریں۔ چالیس ہندو نوجوانوں نے میرے گھر اور گلی میں دن رات پہرہ دیا میں اس حسن سلوک کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- جموں میں لگی خوفناک آگ، ریلوے اسٹیشن کے سامنے موجود مارکیٹ کی 40 دکانیں ہوئیں خاک
- تنازعہ کے درمیان جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اسٹوڈنٹس یونین الیکشن سے متعلق جاری کیا حکم، طلبا نے کیا نامنظور!
- واٹس ایپ کا صارفین کے لیے نئے فیچر پر کام جاری
- ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو خریداروں کی شکایات کا سامنا
- برطانیہ: خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لیے منصوبے پر کام شروع
