تنازعہ کے درمیان جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اسٹوڈنٹس یونین الیکشن سے متعلق جاری کیا حکم، طلبا نے کیا نامنظور!

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کی بحالی کو لے کر تنازعہ جاری ہے۔ اس دوران آج صبح (پیر، 26 اکتوبر) تقریباً 4.30 بجے جامعہ انتظامیہ نے طلبا یونین کے انتخابات کے حوالے سے ایک حکم جاری کیا۔ طلبا کا اہم مطالبہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا تھا، لیکن حکم میں کہا گیا ہے کہ طلبا یونین کا آئین بننے کے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ یعنی فی الحال انتخابات کی کوئی مقررہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

جامعہ انتظامیہ کے حکم میں طلبا یونین انتخاب سے متعلق جانکاری دینے کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبا کو انتظامیہ کے خلاف دیے گئے قابل اعتراض بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹ فوراً ہٹانے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی پریس کانفرنس کر کے عوامی طور پر معافی مانگنی ہوگی۔ انتظامیہ نے احتجاج فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

دوسری طرف بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبا لیڈران اور احتجاج کرنے والے طلبا نے انتظامیہ کی ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ وہ کوئی معافی نہیں مانگیں گے اور جب تک انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا، تب تک ان کی بھوک ہڑتال اور احتجاج جاری رہے گا۔ طلبا نے انتظامیہ کے حکم کو الجھن پیدا کرنے والا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات کو واضح طور پر تحریری شکل میں پورا نہیں کیا جاتا، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

طلبا نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی پیر کی صبح تقریباً 4.30 بجے احتجاج کرنے والے طلبا سے بات چیت کرنے کے لیے کیمپس پہنچے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری سرکاری حکم کی نقل پیش کی اور طلبا سے تحریک ختم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبا کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’حکم میں طلبا یونین کی بحالی کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کئی اہم خدشات پر توجہ نہیں دی گئی۔‘‘

اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے یونیورسٹی کے حکم کی نقل شیئر کی ہے۔ اس حکم میں احتجاج کے دوران طلبا کو جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور وجہ بتاؤ نوٹس بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک کے دوران سیکورٹی عملے کے طرز عمل کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حالانکہ طلبا نے یونین کے آئین کو منظوری دینے اور انتخابات کرانے کے لیے کوئی مقررہ مدت طے نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حکم میں پراکٹر کے استعفیٰ کے ان کے مطالبے پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

طلبہ نے صاف لفظوں میں کہا کہ ٹھوس فیصلوں اور واضح لائحہ عمل کے بغیر محض یقین دہانی کو ان کے مطالبات کی تکمیل نہیں مانا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انتظامیہ ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے واضح تحریری وعدہ نہیں کرتی، تب تک طلبا اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ طلبا نے کہا کہ احتجاج کا مقصد جمہوری حقوق کا تحفظ کرنا اور کیمپس میں طلبا کی مناسب نمائندگی یقینی بنانا تھا، نہ کہ طلبا کو مبہم یقین دہانیوں پر مطمئن کرنا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں