کشمیر میراتھن مقامی کھیلوں کے ٹیلنٹ کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے : ایل جی سنہا

سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو کہا کہ کشمیر میراتھن مقامی کھیلوں کے ٹیلنٹ کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے اور انہیں پورا یقین ہے کہ جموں و کشمیر کے رنرز جلد ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کریں گے۔
سرینگر کے پولو ویو گراؤنڈ میں کشمیر میراتھن 2026 کی انعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے، خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق، کہا کہ جموں و کشمیر کے ہر علاقے میں صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے، تاہم اکثر کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے مناسب مواقع نہیں مل پاتے۔انہوں نے کہا کہ اننت ناگ، پلوامہ یا بڈگام سمیت کسی بھی ضلع سے میراتھن دوڑ کا ایک بڑا چیمپئن سامنے آسکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کامیاب کھلاڑیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے ان شرکاء کی بھی حوصلہ افزائی کی جنہوں نے تمغے حاصل نہیں کیے، لیکن اپنی محنت اور عزم کے ساتھ دوڑ مکمل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے شرکاء کی ثابت قدمی اور حوصلہ بھی یکساں طور پر قابلِ ستائش ہے۔
ایل جی سنہا نے کہا، ’’میں ان لوگوں سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں جنہیں تمغہ نہیں ملا۔ آپ محض شرکاء نہیں بلکہ فاتح بھی ہیں۔ جو لوگ مسلسل دوڑتے رہتے ہیں اور کئی گھنٹوں کے بعد اختتامی مقام تک پہنچتے ہیں، وہ ہماری طرف سے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ کشمیر میراتھن نے مقامی ٹیلنٹ اور مواقع کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب خواہش مند رنرز کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم دستیاب ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے امید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر ایسے کھلاڑی پیدا کرے گا جو میراتھن دوڑ کے اعلیٰ ترین عالمی مقابلوں میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ میراتھن دوڑ کی دنیا میں اگلا بڑا نام جموں و کشمیر سے سامنے آئے گا۔‘‘انہوں نے میراتھن کے فاتحین پر زور دیا کہ وہ نئے اور ابھرتے ہوئے رنرز کی رہنمائی کریں تاکہ ان کی کامیابیاں مزید نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دے سکیں۔
سنہا نے کہا کہ کئی نوجوان شرکاء نے میراتھن کو اپنے ایک نئے سفر کا آغاز قرار دیا ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ ایونٹ مستقبل میں بھی خطے کے کھیلوں کے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’پھول کھلنے والے ہیں اور ضرور کھلیں گے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ کشمیر میراتھن کو بین الاقوامی میراتھن اور دوڑ کے مقابلوں کے کیلنڈر میں جگہ ملی ہے، جو جموں و کشمیر کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔انہوں نے کامیاب انعقاد کے لیے محکمہ سیاحت، پولیس، طبی ٹیموں، رضاکاروں اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے لداخ سے تعلق رکھنے والے اس شخص کی خدمات کا بھی اعتراف کیا جو میراتھن کے تصور سے وابستہ رہے، اور کہا کہ یہ ایونٹ کھیلوں کے ذریعے لوگوں کو یکجا کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
ایل جی سنہا نے کہا کہ کشمیر میراتھن محض ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ جسمانی صحت، بہتر طرزِ زندگی اور عوام میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔موبائل فون اور اسکرین کے سامنے بڑھتے ہوئے وقت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ جسمانی سرگرمیوں کو روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہر شخص کے لیے میراتھن میں حصہ لینا ضروری نہیں، تاہم ہر فرد کو اپنی روزمرہ زندگی میں کھیلوں اور ورزش کو شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیر میراتھن 50 سال سے زائد عمر کے افراد سمیت مختلف عمر کے لوگوں کو بھی جسمانی طور پر زیادہ فعال رہنے کی ترغیب دے گی۔
نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ میراتھن انسان کو عزم، صبر اور مشکلات پر قابو پانے کے اہم اسباق سکھاتی ہے، جنہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں بھی اپنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوڑ کے دوران کھلاڑی تھکن اور مختلف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہتے ہیں۔ نوجوانوں کو بھی زندگی میں ناکامیوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اسی جذبے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’میراتھن میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی زندگی میں کوئی شارٹ کٹ ہوتا ہے۔‘‘سنہا نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دستیاب مواقع کو پہچانیں، اپنی ذمہ داریاں قبول کریں اور مشکلات کو کامیابی کے مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے اور انہیں ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں اپنا تعاون دینا چاہیے جہاں اعتماد، توانائی اور کھیلوں کا مضبوط کلچر موجود ہو۔
لیفٹیننٹ گورنر نے امید ظاہر کی کہ کشمیر میراتھن مستقبل میں بھی ملک اور بیرونِ ملک سے رنرز کو اپنی جانب راغب کرتی رہے گی اور جموں و کشمیر کو کھیلوں اور سیاحت کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔واضح رہے کہ کشمیر میراتھن 2026 میں مقامی، ملکی اور بین الاقوامی رنرز نے حصہ لیا۔ اس ایونٹ کا مقصد جسمانی صحت کو فروغ دینے، کھیلوں کے ٹیلنٹ کو آگے لانے اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جموں و کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں