کراچی (اسٹاف رپورٹر) : سینئر صحافی و رکن کراچی پریس کلب نصر اللہ چودھری نے مبینہ ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام میں سنائی گئی سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔
سینئر صحافی کی جانب سے اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ سادہ لباس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار7 نومبر 2018ء کو کراچی پریس کلب میں غیر قانونی داخل ہوئے صحافیوں کو ہراساں اور دھمکایا گیا تاہم صحافیوں کے احتجاج کے بعد 8 نومبر 2018ء کی شب سادہ لباس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے مجھے گھر سے غیر قانونی حراست میں لے لیا گیا۔ جس پر کراچی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھرپور احتجاج کے باعث سی ٹی ڈی نے3 روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں نامزد کر دیا۔
سنئیر صحافی نے اپیل میں مزید موقف اپنایا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور ان کے خلاف ممنوعہ لٹریچر سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
نصر اللہ چودھری نے اپیل میں کہا کہ ان کی گرفتاری اور غیر قانونی حراست پر نہ صرف ملکی بلکہ عالمی میڈیا پر نشر ہونے والی خبریں ریکارڈ کا حصہ ہیں اور عدالت نے ان کی غیر قانونی حراست کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سزا سنائی۔
یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج منیر بھٹو نے 26 دسمبر2019ء کو سینئر صحافی نصر اللہ چودھری کو مبینہ 2012ء کا رسالہ رکھنے کے الزام میں 5 سال قید، 10ہزار جرمانہ جبکہ عدم ادائیگی پر مزید ایک ماہ سزا کا حکم دیا تھا۔

