لاہور(جسار ت نیوز ) پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے جنرل کونسل اجلاس میں اہم فیصلے، مسلسل تیسری مرتبہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر پاکستان واپڈا کے ووٹنگ رائٹس کو ختم کر دیا گیا،ادریس حیدر خواجہ،وقار علی،ناصر مہمند،فیاض احمد پر تا حیات پابندی لگادی جبکہ ارشد ستار،ممتاز ریاض،کلیم اعوان،گل محمد کاکڑاور مقصود احمد،طارق خان اور عمران خان پر 10 سال کی پاپندی لگا دی ، یو سی آئی کی ہدایت پر 33 ویں قومی کھیلوںمیں شرکت کرنے والے واپڈا اور پاکستان آرمی کے سائیکلسٹ کے لائسنس ایک سال کے لیے معطل کر دیئے گئے۔ کسی انٹرنیشنل مقابلے میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ ساوتھ ایشین گیمز کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کو تنقید کا نشانہ بنانے والے سائیکلسٹ نثار کاسی،عزت اللہ، نجیب اللہ اور اویس خان جن کا تعلق واپڈا سے ہے 5 سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ بات پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن ملک میں انٹرنیشنل سائیکلنگ فیڈریشن یو سی آئی کی نمائندہ تنظیم ہے جو اپنے تمام فیصلے آئین کے مطابق کرتی ہے۔ یو سی آئی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ قومی کھیلوں میں سائیکلنگ کا شامل ایونٹ غیر قانونی ہوگا اگر اس میں یو سی آئی کے لائسنس یافتہ سائیکلسٹ شرکت کرینگے تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا جس پر پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے جنرل کونسل اجلاس میں ان سائیکلسٹ پر یو سی آئی کی ہدایت پر ایک سال کی پابندی لگا دی ہے۔ سید اظہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ پی سی ایف آئین کے تحت کوئی یونٹ یا صوبہ مسلسل 3 میٹنگز میں غیر حاضر رہتا ہے تو اس سے اس کا ووٹنگ رائٹس واپس لے لیا جائے۔ اسی آئین کے تحت پاکستان واپڈا سے اس کا ووٹنگ رائٹس واپس لیا گیا ہے، پاکستان آرمی کی عدم شرکت پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی کے پاس ایک چانس ابھی باقی ہیں اگر وہ آئندہ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کرتے تو لازمی طور پر ان کے بھی ووٹنگ رائٹس ختم ہو جائیں گے۔ لاہور میں منعقد ہونے والی ٹریک سائیکلنگ چیمپیئن شپ میں شرکت نہ کرنے پر ان دونوں اداروں سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ اجلاس میں خیبر پی کے سائیکلنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے جن افراد پر تاحیات اور10 سال کی پابندی عائد کی گئی تھی پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے ان کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ صدر پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کا کہنا تھا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لوکل سائیکلنگ ایسوسی ایشن تنقید کر رہی ہے کہ ایچ ای سی اور پاکستان ریلویز نے بھی چیمپیئن شپ میں شرکت نہیں کی ہے تو ان کے لیے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان دونوں اداروں کا ہمارے ساتھ کوئی الحاق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کو ترقی دینے کے لیے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں جبکہ 2020ء کے لیے سالانہ کیلنڈر کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ تمام صوبائی ایسوسی ایشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ایونٹس کی تعداد میں اضافہ کریں۔
