English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افریقی بولر جوفرا آرچر کی شاندار کارکردگی جاری

القمر

سید پرویز قیصر

جنوبی افریقaکے خلاف انگلینڈ کو سنچورین میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں 107 رنز سے شکست ہوئی۔ اس ٹیسٹ میں جنوبی افریقا کی دوسری اننگ میں تیز بولر جوفرا آرچر نے17 اوور میں102 رنز دیکر5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ انہوں نے7ویں ٹیسٹ میں تیسری مرتبہ ایک اننگ میں 5 یا اس سے زیادہ کھلاڑیوں کو آئوٹ کیااور پہلی مرتبہ وہ ایک اننگ میں 5 وکٹ حاصل کرنے کے باوجود ٹیم کو جیت دلانے میں ناکام رہے۔
لیڈزمیںاگست 2019 میں آسڑیلیا کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میں جوفرا آرچر نے 17.1اوور میں45 رنز دیکر6 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا جو ٹیسٹ کرکٹ میں انکی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔ اس ٹیسٹ میں انگلینڈ کو ایک وکٹ سے جیت حاصل ہوئی۔
اوول میں سیریز کے5ویں اور آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ نے 135 رنز سے جیت حاصل کی اور سریز2-2 سے برابر کی۔اس ٹیسٹ میں آسڑیلیا کی پہلی اننگ میں جوفرا آرچر 23.5 اوور میں62رنز دیکر 6 کھلاڑیوں کو آئوٹ کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز میں ویسٹ انڈیز میں پیدا ہوئے اس تیز بولر نے 156اوور میں446 رنز دیکر20.27 کی اوسط کے ساتھ22 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔24 سالہ تیز بالر کی یہ شاندار شروعا ت تھی اور انگلینڈ کے سلیکٹروںنے ان پر جو بھروسہ کیاتھا اس پر وہ پورے اترے۔
اس ٹیسٹسیریز سے پہلے انہوں نے14 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی تھی اور737 گیندوں پر569 رنز دیکر24.73 کی اوسط کے23 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا۔27 رنز دیکر3 وکٹ انکی سب سے اچھی بولنگ کارکردگی ہے جو انہوں نے جنوبی افریقا کے خلاف اوول میں 30 مئی2019 کو انجام دی تھی۔
نیوزی لینڈ میں نومبر2019میں کھیلی گئی 2ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں جوفرا آرچر کی کارکردگی خراب رہی ۔ اسسیریز میں انہوں نے3 اننگزمیں82 اوور میں209 رنز دیکر104.50 کی اوسط کے ساتھ2 وکٹ لئے۔ اس سیریز میں انگلینڈ کو1-0 سے شکست ہوئی تھی۔
ابھی تک جوفرا آرچر نے 7ٹیسٹ میچوں کی13 اننگز میں274 اوورمیں822 رنزدیکر27.40 کی اوسط اور54.8 کے اسڑائیک ریٹ کے ساتھ30 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا ہے۔
جوفرا آرچر یکم اپریل 1995 کو بارباڈوس کی راجدھانی برج ٹاون میں پیدا ہوئے تھے۔ انکے والد کا تعلق انگلینڈ سے تھا جبکہ ماں ویسٹ انڈیز میں پیدا ہوئی تھیں۔ باپ کے انگلینڈ کا ہونے کی وجہ سے انہیں انگلینڈ کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا ویسے انہوں نے زیادہ تر کرکٹ انگلینڈ میں کھیلی تھی اس لئے ان کے ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرنے کے چانس کم تھے۔
انگلینڈ کی کاوئنٹی سسکس کے لئے انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں حصہ لیا اوراچھی کارکردگی کے بعد انگلینڈ کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے