
بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق کے دارالحکومت بغداد میں مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق منگل کے روز مشتعل مظاہرین مرکزی دروازہ توڑ کر سفارت خانے میں داخل ہوئے اور استقبالیہ کے سامنے امریکی پرچم نذرِ آتش کیا۔ مظاہرین نے سیکورٹی کیمرے اتار پھینکے، مختلف مقامات پر آگ لگائی، توڑ پھوڑ کی اور ’’امریکا مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔حملے سے قبل سفارتی عملے کو عمارت سے نکال لیا گیا تھا۔ عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹیولر دارالحکومت بغداد سے نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے ۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر اور دیگر سفارتی ملازمین نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے کوچ کیا۔ بغداد کے محفوظ ترین علاقے میں جاری اس احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ یہ مظاہرے ایران نواز جنگجوؤں پر امریکی فضائی حملوں اور ان میں ہلاکتوں کے خلاف کیے گئے۔ یاد رہے کہ اتوار کے روز امریکی فضائیہ نے ایرانی حمایت یافتہ کتائب حزب اللہ ملیشیا کے مختلف ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا، جن میں کم از کم 25 جنگجو مارے گئے تھے۔ امریکا کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اس راکٹ حملے کے جواب میں کی گئی، جس کے نتیجے میں عراقی فوجی بیس پر کام کرنے والا ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک ہو گیا تھا۔ امریکا نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری کتائب حزب اللہ ملیشیا پر عائد کی تھی۔ اس دوران سیکورٹی فورسز خاموش تماشائی بنی رہیں، تاہم وہاں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں اور کئی مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔ خوب ہنگامے کے بعد سفارت خانے کے حفاظتی دستوں نے مظاہرین کو واپس دھکیلنے اور منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ سازی کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایران نے ایک امریکی اہل کار کو ہلاک کیا اور کئی کو زخمی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر سخت امریکی رد عمل سامنے آئے گا۔ ان کے مطابق اب ایران بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا ذمے دار بھی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر عراقی حکام سے سفارت خانے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ جب کہ امریکی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے عراق اور شام میں جنگجو تنظیموں پرکیے گئے فضائی حملوں کا دفاع کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ عراقی عوام اور امریکی دستوں کے خلاف جارحیت کے واقعات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران 11 حملوں کے بعد جوابی کارروائی ضروری ہو گئی تھی۔ عراق نے ان امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔
