طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور اس کے گرد ونواح میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قومی وفاقی حکومت کی فوج اور باغی جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق قومی حکومت نے بتایا ہے کہ طرابلس میں جھڑپوں کے دوران حفتر ملیشیا کے 10 جنگجو مارے گئے ہیں۔ حکومتی ترجمان محمد قانونو نے بتایا کہ حفترملیشیا کے جنگجو 4 اماراتی ٹینکوں کے ذریعے طرابلس کے ہوائی اڈے کے قریب پہنچ گئے تھے، جنہیں ہماری فوج نے پسپا کر دیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ ہوئی جھڑپ میں حفتر ملیشیا کے 10 جنگجو مارے گئے، جب کہ 12 فوجی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ حفتر ملیشیا نے اس سال 4 اپریل سے طرابلس پر قبضے کے لیے کارروائی شروع کر رکھی ہے، جسے روکنے کے لیے فوج نے برکان الغضب نامی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ دوسری جانب لیبیا کے بحران پر عرب لیگ نے منگل کے روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ یہ اجلاس مصر کی درخواست پر بلایا گیا، جو حفتر ملیشیا کو ہر قسم کی مدد فراہم کررہا ہے۔ اس کی وجہ ترکی کی جانب سے لیبیا میں ممکنہ فوجی کارروائی ہے۔ پیر کے روز تُرک صدر رجیب طیب اردوان نے اپنی ملکی پارلیمان میں تُرک دستے لیبیا بھیجنے کی منظوری کے لیے ایک مسودہ جمع کرایا ہے۔ اس مسودے پر منگل کے روز بحث ہوئی۔ پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں جھڑپوں کے خانہ جنگی میں تبدیلی ہونے کی صورت میں علاقے میں ترکی کے مفادات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ قرار داد مزید میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں ترک فوجیوں کے فرائض کی حدود اور دئارہ کار کا تعین صدر کی طرف سے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تُرک مسلح افواج کو ایک سال کے لیے لیبیا بھیجنے کے لیے اجازت نامہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
