
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیر دفاع نفتالی بینت نے فلسطین کے تاریخی شہر الخلیل میں مسجد ابراہیمی پر یہود آباد کاروں کے ساتھ دھاوا بولا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر کی جانب سے یہ شر انگیزی نام نہاد عید انوار کے موقع پرکی گئی۔ دھاوے سے قبل صہیونی فوج نے مسجد ابراہیمی کا محاصرہ کرکے مسجد کی طرف آنے والے نمازیوں اور صحافیوں کو آگے جانے سے روک دیا۔ رات گئے تک اسرائیلی فوج کی بھاری نفری مسجد ابراہیمی کے گرد میں موجود رہی اور علاقے میں کرفیو کا ماحول رہا۔ مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر حفظی ابواسنینہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے مغرب اور عشا کے لیے اذان دینے کی بھی اجازت نہیں دی ۔ عبرانی ویب سائٹ سیروگیم کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی سدرن کمانڈ کے سربراہ ایتمار بن حاییم نے اس دوران بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کریات اربع یہودی کالونی کا سربراہ الیاہو لیمان اور الخلیل میں یہودی مذہبی اسکول کا سربراہ حننئیل اتروگ بھی دھاوا بولنے والے اہل کاروں میں شامل تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے بلوائیوں کو برانگیختہ کرنے کے لیے اپنے خطاب میں کہا کہ عید کی شمع روشن کرنے کے لیے الخلیل سے بہتر اور کوئی مقام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الخلیل اسرائیل کا دل ہے اور اس کے بغیر اسرائیلی ریاست کے وجود کا کوئی تصور نہیں۔ اگر یہودی قوم اس شہر کے وجود سے انکار کرے گی تو وہ اپنا وجود کھو دے گی۔ نفتالی بنیت نے کہا کہ ان کی حکومت غرب اردن میں یہود آباد کاری اور توسیع پسندی کے عمل کومزید تیز کرے گی۔
