کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی میں چہیتوں کو بھرتی کرنے کے لیے ایوی ایشن ڈویژن نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ملازمتوں کا بٹوارا شروع کر دیا ہے۔ ملازمتوں کے بٹوارے میں سب سے زیادہ دلچسپی وزیر ہوابازی کو ہے جو اب تک اپنے حلقہ انتخاب کے سیکڑوں افراد کو سول ایوی ایشن اتھارٹی میں بھرتی کراچکے ہیں بلکہ اب ایک نئی فہرست بھی انہوں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذمے داروں کو بھیج دی ہے۔ نئی بھرتیوں کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظوری لی جا چکی ہے۔ اس کے لیے یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے کہ باقاعدہ درخواستیں ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے ذریعے نہیں طلب کی گئی ہیں بلکہ اس کے لیے تمام تر صوابدیدی اختیارات ائر پورٹ منیجروںکو دے دئیے گئے ہیںمگر ان ائرپورٹ منیجروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ارسال کردہ فہرست کے مطابق ہی بھرتیاں کر سکتے ہیں۔ ان صوابدیدی اختیارات کے تحت ائرپورٹ منیجروں کو کہا گیا ہے کہ وہ مستقل ملازمت کے بجائے ریٹینر شپ کے تحت ملازمتیں فراہم کریں‘ ریٹینر شپ کے تحت ملازمتوں کی بندر بانٹ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی شروع کردی جائے گی‘ اصولی طور پر ریٹینر شپ کے تحت ان شعبہ جات میں ملازمتیں فراہم کی جاتی ہیں جہاں پر کل وقتی ملازم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسا کہ نواب شاہ یا لاڑکانہ جیسے دورافتادہ علاقوں کے ائر پورٹ پر ڈاکٹروں کی تعیناتی ہے۔ ریٹینر شپ پر تعینات ان ڈاکٹروں کو سی اے اے اعزازیہ دیتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تاہم اب کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور جیسے ائرپورٹوں پر ریٹینر شپ کے تحت سیکڑوں افراد کو بھرتی کیا جائے گا‘ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ افراد کورٹ کے ذریعے مستقل ہوجائیں گے جہاں پر سی اے اے ان کے مستقل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا اور نہ ہی موثر پیروی کی جائے گی۔ کورٹ اس بنیاد پر بھی ان عارضی ملازمین کو مستقل کر دیتی ہے کہ جب یہ عارضی افراد تجربہ کار ہوگئے ہیں تو نئے افراد کی بھرتی نہ کی جائے بلکہ انہیں ہی مستقل کردیا جائے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی میں ایسے من مانے فیصلوں پر عملدرآمد اور کسی اندرونی مزاحمت سے بچنے کے لیے تقریباً تمام ہی اہم عہدوں پر کسی اہل یا تجربے کار ڈائریکٹر کی تعیناتی کے بجائے جونیئر اور کم تجربے کے حامل افسران کو چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے۔

