نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن اور شہریوں کے قومی اندراج کیخلاف مسلمانوں کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے
ملک بھر میں 3، 8، 12، 14 اور 15 جنوری کو مظاہرے ہوں گے جبکہ 30 جنوری کو پورے بھارت میں انسانی زنجیر بنائی جائے گی
نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن اور شہریوں کے قومی اندراج کیخلاف بھارت کی100 تنظیموں نے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بھارت کے متنازع قانون کے خلاف مسلمانوں سے مل کر احتجاج کیا جائیگا۔ سوراج ابھیان پارٹی کے بانی یوجندر یادو نے کہا ہے کہ ہم احتجاج کرنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی بینر کے تحت آئیں۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ گروپ جنوری میں ملک گیر مظاہروں کا انعقاد کریگا۔ 3جنوری‘8 جنوری‘12 جنوری‘14 اور 15 جنوری17 جنوری‘26 جنوری کو مظاہرے ہوں گے جبکہ30 جنوری کو بھارت بھر میں انسانی زنجیر بنائی جائیگی۔ سماجی کارکن اور مصنف ہرش مانڈر کے مطابق مودی حکومت کی اپنی پلے لسٹ میںدو چیزیں ہیں۔ پہلا یہ کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر حملہ کرکے اس مسئلے کو فرقہ وارانہ بنانا اور دوسرا یہ کہ عوام سے جھوٹ بوالا اور گمراہ کیا کہ ان کی پارٹی نے2014 سے این آر سی کے بارے میں بات نہیں کی جبکہ حقیقت میں وزیر داخلہ امیت شا نے متعدد مرتبہ پارلیمنٹ میں سی اے اے‘ این آر سی پر عملدرآمد کا ذکر کیا۔

