English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسلم مخالف بل ‘ شدید سردی میں بھی خواتین کا دھرنا جاری

القمر

نئی دہلی(صباح نیوز) بھارت کے دارلحکومت دہلی سمیت ملک بھر میں عوام نے شہریت ترمیمی ایکٹ،این آرسی اور این پی آر کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں سے سن دو ہزار بیس کا آغاز کیا ۔نئے عیسوی سال کی آمد کے موقع پر ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کے مختلف علاقوں، خاص طور پر شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھی خواتین نے، اکتیس دسمبر کی رات بھی سخت سردی کے باوجود اپنے دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا میڈیا رپورٹ کے مطابق شاہین باغ ہائی وے پر دھرنے پر بیٹھی خواتین اور مردوں نے 31دسمبر کی رات 12 بجتے ہی شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف زبردست نعرے لگائے اور مرکزی حکومت سے ان دونوں متنازعہ قوانین کے ساتھ ہی، این پی آر کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔اسی کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سامنے بدھ یکم جنوری دو ہزار بیس کو زبردست احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سامنے شہریت ترمیمی ایکٹ ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف یکم جنوری کے مظاہرے شروع ہوچکے ہیں۔ ان مظاہروں میں جامعہ ملیہ کے ساتھ ہی دہلی کی مختلف دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ اور سماجی تنظیموں، سول سوسائٹی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں ۔اسی کے ساتھ اطلاعات ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے 31دسمبر کی رات بھی کیمپس میں کھلے آسمان کے نیچے گزاری ۔شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف پر تشدد واقعات صرف انہیں ریاستوں میں رونما ہوئے ہیں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں ہیں اور ہندوستان کی حزب اختلاف کی سبھی سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ تشدد کا مظاہرہ ، مظاہرین نے نہیں بلکہ پولیس نے کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے