پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھیں گے اور مستقبل قریب میں ایک نیا تزویراتی ہتھیار متعارف کرائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم اپنی زبان سے پھرنے والے نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق مذاکرات کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کم جونگ اپنے زبان کے پکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کم جونگ ان کے ساتھ مل کر چلیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ کرنا ہے، جو ہمیں کرنا چاہیے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کم جونگ ان کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی اس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ کا بیان بھی سامنے آیا۔ کم جونگ ان نے اس سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔ کم جونگ ان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کے تجربات معطل کرنے کا فیصلہ ختم کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے تنبیہ کی کہ وہ جلد ایک نیا تزویراتی ہتھیار متعارف کرائیں گے۔ ان تجربات پر عائد خود ساختہ پابندیوں کے بعد کم جونگ ان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب مزید پابندیاں خاطر میں نہیں لائیں گے۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے نے کم جونگ ان کے حوالے سے بتایا کہ حکمراں جماعت کے عہدے داروں سے مشاورت کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اب ایسی کوئی گنجایش نہیں کہ ہم یک طرفہ طور پر اس وعدے کے پابند رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا مستقبل قریب میں شمالی کوریا کے پاس نئے اسٹرٹیجک ہتھیاروں کا نظارہ دیکھے گی۔ کم نے کہا کہ امریکا ہماری ریاست کے مفادات سے قطع نظر اپنے مطالبات بڑھاتا جا رہا ہے۔ واشنگٹن جنوبی کوریا کے ساتھ کئی چھوٹی بڑی فوجی مشقیں بھی کر چکا ہے، جنہیں روکنے کا امریکی صدر نے وعدہ کیا تھا۔ کم جونگ کے بیان پر امریکا نے بھی فوری ردعمل دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کم جونگ پر زور دیا ہے کہ وہ مختلف راہ اختیار کریں۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کم جونگ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے اور جنگ اور تنازع پرامن و استحکام کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا شمالی کوریا کے ساتھ محاذ آرائی نہیں، بلکہ امن چاہتا ہے۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے امریکا کو جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے 31 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دی تھی، جو منگل کو ختم ہو چکی ہے۔
